کے پی حکومت نے نئی اسامیوں کی تخلیق اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کے لیے کفایت شعاری اقدامات جاری کردیئے، نئی آسامیوں کی تخلیق اورگاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کفایت شعاری اقدامات کے مطابق مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے وزیراعلیٰ کی منظوری سے مطلوبہ آسامیوں کے قیام کی منظوری دی جائے گی، ایمبولینس، فائر بریگیڈ، ٹریکٹرز، مسافربسوں، ریسکیو گاڑیوں، کشتیوں اور قیدیوں کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد نہیں ہوگی، دیگر تمام ہرقسم کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد ہوگی۔
اقدامات کے مطابق اراکین صوبائی اسمبلی کے علاوہ دیگر کے سرکاری اخراجات پر دیگر ممالک میں ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں میں شرکت پر پابندی عائد کردی گئی، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں سرکاری اخراجات پر سیمینارز اور ورکشاپس کے انعقاد پر پابندی عائد ہوگی۔
سرکاری اخراجات پر بیرون ملک علاج و معالجے پر پابندی عائد ہوگی، محکمہ خزانہ کی پیشگی اجازت کے بغیر چھٹی پر گئے کسی ملازم کی اسامی پر تقرری نہیں کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گاڑیوں کی خریداری پر پابندی پر پابندی عائد
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔