مقروض باپ نے فیس بک لائیو پر بیٹی کی دوا کیلیے اپیل کے بعد خوکشی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">نئی دہلی: بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ایک دل دہلادینے والے واقعہ پیش آیا ہے، بیتی کی دوا لینے کے لیے رقم نہ ہونے پر پریشان اور بے بس باپ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ دل خراش واقعہ ریاست اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں پیش آیا جہاں ایک قرض میں ڈوبے باپ نے سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر لائیو آکر ناظرین سے اپنی بیٹے کے لیے ’’انسولین‘‘ خریدنے کے لیے مدد مانگی
پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص رئیل اسٹیٹ کا کام کرتا تھا اور کئی لوگوں کا مقروض تھا اور لوگوں کا قرض چکانے کے لیے رقم تو دور کی بات اس کے پاس اپنی بیٹی کی دوا لانے کے لیے بھی کچھ روپے نہ تھے۔
پولیس کے بقول متوفی کی بیٹی ذیابیطس (شوگر) کی مریضہ ہے اور مذکورہ شخص وڈیو میں مسلسل روتا رہا۔ اس نے کہا کہ وہ قرض کے بوجھ اور مالی ذمہ داریوں سے ٹوٹ چکا ہے۔
پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کے اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس وڈیو بیان کے بعد وہ خودکشی کرسکتے ہیں۔
قبل اس کے پولیس وہاں پہنچ سکتی۔ مذکورہ شخص نے فیس بک پر مالی مدد کی اپیل کرنے کے فوری بعد دفتر میں سیکورٹی گارڈ کی پستول سے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ تاحال پولیس نے خودکشی کرنے والے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مذکورہ شخص کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔