بھارت میں مگ-21 کی آخری پرواز: مسئلہ طیارے میں نہیں، تربیت میں تھا، ماہرین کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
بھارتی فضائیہ (IAF) کی تاریخ میں طویل ترین خدمات انجام دینے والا لڑاکا طیارہ مگ-21 ستمبر 2025 کو اپنی آخری پرواز کرے گا، یوں اس کا اہم لیکن متنازعہ دور اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ جہاں ایک طرف مگ-21 کو 1971 کی جنگ سمیت کئی محاذوں پر اہم کامیابیوں کا سہرا دیا جاتا ہے، وہیں اسے اڑتا ہوا تابوت کہہ کر بدنام بھی کیا گیا —ایک خطاب جو اس کے حادثات کے سبب اس کے ریکارڈ سے جڑا ہے۔
بھارتی میڈیا ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کی ایک رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کے مورخ اور ماہر انچت گپتا نے مگ-21 کے کردار، کامیابیوں، چیلنجز اور اس کی بدنامی کی وجوہات کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ ان کے مطابق، مگ-21 کو بدنام کرنے کی بجائے ہمیں اس سسٹم پر سوال اٹھانا چاہیے جس نے ناقص تربیت اور غیر مناسب حکمت عملی کے ذریعے کئی نوجوان پائلٹس کی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔
ایک انٹرسیپٹر، جو تربیتی طیارہ بن گیا1963 میں روس سے حاصل کیے گئے مگ-21 طیارے کو اصل میں ہائی ایلٹیٹیوڈ انٹرسیپٹر کے طور پر خریدا گیا تھا، خاص طور پر امریکی U-2 جاسوس طیارے جیسے اہداف کے خلاف۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے زمین پر حملہ، فضائی دفاع، ریکی، حتیٰ کہ جیٹ تربیت جیسے فرائض میں جھونک دیا گیا — جو اس کے ڈیزائن کے دائرے سے باہر تھے۔
یہ بھی پڑھیے حادثات، ہلاکتیں اور بدنامی: بھارتی فضائیہ کا مگ 21 طیاروں سے جان چھڑانے کا فیصلہ
انچت گپتا نے کہا:
’مگ-21 کو تربیتی طیارے کے طور پر استعمال کرنا سب سے بڑی غلطی تھی۔ اسے سپرسونک کارکردگی کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن ہم نے اسے ایسے پائلٹس کو دینا شروع کر دیا جو صرف سب سونک تربیت لے کر آئے تھے۔ یہ فاصلہ تربیتی نظام کی سب سے بڑی خامی تھی۔‘
’اڑتا تابوت‘ کا خطابتقریباً 800 سے زائد مگ-21 طیارے IAF کے بیڑے کا حصہ رہے، جن میں سے 300 حادثات میں تباہ ہوئے۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ خود طیارے کی خرابی نہیں بلکہ ناقابلِ کفایت تربیت، ناقص منصوبہ بندی اور تجربہ کار پائلٹس کی کمی تھی، جس نے ان سانحات کو جنم دیا۔
گپتا کہتے ہیں کہ حادثات کی تحقیقات میں جب ‘انسانی غلطی’ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پائلٹ قصوروار ہے۔ یہ اس سسٹم پر سوال ہوتا ہے جس نے اس پائلٹ کو مکمل تیاری کے بغیر ایسی خطرناک مشق پر بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فضائیہ کا مگ 21 طیارہ حادثے کا شکار، 3 افراد ہلاک
انچت گپتا نے بتایا کہ ان کے والد خود مگ-21 پائلٹ رہے ہیں، اور ان کے لیے یہ طیارہ محض ایک مشین نہیں، بلکہ جذباتی وابستگی کا نام ہے۔
’میں نے اپنے والد کو مگ-21 اڑاتے دیکھا ہے۔ ہماری صبح کا الارم وہی گرجدار آواز ہوا کرتی تھی۔ 1986 کی آپریشن براس ٹیکس میں میرے والد بھُج میں تھے، اور وہ روز ٹرینچز میں بیٹھ کر طیاروں کو گن کر واپس آتے دیکھتے تھے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ہر پائلٹ جو اس طیارے سے جُڑا، اس نے اسے چاہا۔ لیکن جب کوئی ساتھی حادثے میں مارا جاتا، تو صرف ایک زندگی نہیں، ایک پوری کہانی چلی جاتی تھی۔
کارکردگی کا ریکارڈباوجود تنقید کے، مگ-21 نے بھارتی فضائیہ کے کئی اہم جنگی مشنوں میں اہم کردار ادا کیا۔ 1971 کی جنگ میں ’رن وے بسٹر‘ کا لقب پایا۔ کارگل جنگ میں بھی اس کی موجودگی نمایاں رہی، جب اسکواڈرن لیڈر اجے آہوجا نے اس میں جان دی۔
آگے کیا؟ LCA سے امیدیںمگ-21 کی رخصتی کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی جگہ کون لے گا؟ انچت گپتا کا جواب واضح ہے:
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جنگی طیارے ’اڑتے تابوت‘ بن گئے، 550 سے زائد فضائی حادثات، 150پائلٹس ہلاک
’یہ جگہ ہندوستانی لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ (LCA) کو لینی ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھا سکے لیکن یہ ایک بڑی جوتی ہے جسے بھرنا آسان نہیں۔‘
خلاصہ: ناکامی نظام کی تھی، طیارے کی نہیںمگ-21 کو ’اڑتا تابوت‘ کہہ کر صرف اس مشین پر الزام دینا انسانی غلطیوں کی اصل وجوہات پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فضائیہ مگ 21.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ بھارتی فضائیہ مگ 21 کو
پڑھیں:
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی(Attaullah Khan Esakhelvi) نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی آخرت کی تیاری اور اپنی قبر سے متعلق گفتگو کی ہے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے، میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا، ورنہ بعد میں خود دیکھ لیں گے، ہمارا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے وہاں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے، ساتھ کچھ مزید جگہ بھی ہے، ایک میری اہلیہ کے لیے بھی ہے، اگرچہ یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی، اصل میں صرف اپنی قبر تیار کروائی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔
مزیدپڑھیں:بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروانے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ والدہ، عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کی وفات نے مجھے زندگی اور موت کے بارے میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا اور میں صرف اتنی دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے پُرسکون موت عطاء فرمائے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔