واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ایئرلائنز کی ایک پرواز کے مسافروں نے ڈینور میں رن وے پر ہنگامی سلائیڈز کے ذریعے طیارے سے انخلا کیا، جب طیارے نے ٹیک آف کو منسوخ کر دیا۔ حکام کے مطابق، ایک شخص کو معمولی چوٹوں کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے مطابق امریکن ایئرلائنز کی پرواز 3023، جو میامی جا رہی تھی، روانگی کے دوران ممکنہ لینڈنگ گیئر کے مسئلے کی اطلاع دی۔

پروازوں کا سراغ لگانے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ طیارہ رن وے پر تقریباً 127 ناٹس (تقریباً 150 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچا، اور سست ہونا شروع ہوا۔

امریکن ایئرلائنز کی پرواز کے مسافروں نے ہفتے کے روز ڈینور میں ٹیک آف کی منسوخی کے بعد ہنگامی سلائیڈ کے ذریعے طیارے سے انخلا کیا۔

لائیو اے ٹی سی ڈاٹ نیٹ سے حاصل کردہ ایئر ٹریفک کنٹرول آڈیو میں، پائلٹ نے کنٹرولر کو بتایا کہ وہ ’رن وے پر ٹیک آف روک رہے ہیں‘، کنٹرولر نے جواب دیا کہ آپ کے طیارے سے بہت زیادہ دھواں اٹھ رہا ہے، کچھ لمحے بعد، کنٹرولر نے کہا کہ کچھ شعلے بھی تھے، لیکن لگتا ہے کہ دھواں کم ہو رہا ہے۔

ایف اے اے کے مطابق، مسافروں نے رن وے پر طیارے سے انخلا کیا اور انہیں بس کے ذریعے واپس ٹرمینل لایا گیا، ویڈیوز میں مسافروں کو ہنگامی سلائیڈز کے ذریعے طیارے سے نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ پرواز بوئنگ 737 میکس 8 طیارے پر کی جا رہی تھی، ایئرلائن کے مطابق، طیارے میں 173 مسافر اور 6 عملے کے افراد سوار تھے۔

مسافر مارک سرکِس، 50 سالہ، نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے ٹیک آف سے ذرا پہلے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے کہا ’یہ اچھا نہیں ہے، پھر طیارہ سست ہونا شروع ہوا، اور مسافروں نے ایک پہیے کو طیارے کے ساتھ گزرتے ہوئے دیکھا، جب طیارہ تقریباً 30 سیکنڈ یا ایک منٹ بعد رکا، تو کسی نے کہا ’دھواں، آگ‘ اور پھر ظاہر ہے، بہت سے لوگ گھبرا گئے۔

ڈینور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مطابق طیارے کا استقبال فوری امدادی ٹیموں نے کیا، ڈینور فائر ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ انہوں نے طیارے پر آگ بجھائی، ایئرپورٹ نے کہا کہ 6 افراد کا معائنہ کیا گیا اور ایک کو ہسپتال لے جایا گیا، ایئرلائن کے مطابق، منتقل کیے گئے فرد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

سرکس نے کہا کہ یہ یقینی طور پر خوشگوار تجربہ نہیں تھا، لیکن ہم خوش قسمت تھے، یہ واقعہ طیارے کی پرواز سے پہلے پیش آیا، اس لیے پائلٹ نے مکمل رفتار یا پرواز سے پہلے طیارے کو روک لیا۔

امریکن ایئرلائنز نے کہا کہ مسافروں کو میامی پہنچانے کے لیے ایک متبادل طیارہ بھیجا گیا، جب کہ اصل طیارے کو سروس سے ہٹا کر اس کا معائنہ کیا جائے گا۔

ایئرلائن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے عملے کے پیشہ ورانہ رویے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اپنے مسافروں سے پیش آئے اس واقعے پر معذرت خواہ ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مسافروں نے نے کہا کہ کے ذریعے طیارے سے کے مطابق رن وے پر ٹیک آف

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا