کیپٹن محمدسرور شہید کا 77 واں یوم شہادت: صدر ، وزیر اعظم ،وزیر داخلہ کا خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاک فوج کے عظیم سپوت اور نشانِ حیدر حاصل کرنے والے پہلے شہید کیپٹن محمد سرور کا 77واں یومِ شہادت آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
ملک بھر میں کیپٹن سرور شہید کے یومِ شہادت پر تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن میں ان کے عظیم کارناموں کو یاد کیا گیا، قوم آج اپنے اس عظیم ہیرو کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے۔
کیپٹن محمد سرور شہید (نشانِ حیدر) کے 77 ویں یومِ شہادت پر مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا، علماء کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کے لئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔
عمان میں موجود پاکستانیوں کیلئے اہم خبر آگئی
گوجر خان میں شہید کے مزار پر پھول رکھنے کی تقریب ہوئی، میجر جنرل عاکف اقبال نے کیپٹن محمد سرور شہید کے مزار پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔
صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان نے کیپٹن محمد سرور شہید (نشان حیدر) کے 77 ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ آج کے دن کشمیر کی پہلی جنگ میں کیپٹن محمد سرور شہید نے مادر وطن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا، قوم کو کیپٹن محمد سرور شہید کی جرات، استقامت اور عظیم قربانی پر فخر ہے۔
''اپنی چھت اپناگھرپروگرام''بلاسودقرضوں کی فراہمی کا حجم بڑھادیاگیا
انہوں نے کہا کہ آج کا محفوظ پاکستان ہمارے ہیروز کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے، پوری قوم کیپٹن محمد سرور شہید کی بہادری اور قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔
آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ کیپٹن محمد سرور نے اپنی جان دے کر قومی دفاع کا ناقابل فراموش باب رقم کیا، شہدا کی قربانیاں ملکی دفاع اور قومی استحکام کی بنیاد ہیں، قوم کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کیپٹن محمد سرور شہید کے 77 ویں یوم شہادت پر اپنے پیغام میں کہا کہ پوری قوم کیپٹن محمد سرور شہید کی جرأت و بہادری پر خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
ضلع قصور سے لاہور منشیات سپلائی کرنیوالا نیٹ ورک بے نقاب، دو ملزمان گرفتار
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قوم کے بہادر سپوت نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، افواجِ پاکستان کے جوانوں نے ہمیشہ مادر وطن کے دفاع کو اپنی جانوں پر فوقیت دی، پاکستانی قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ 27 جولائی 1948 پاکستان کی عسکری تاریخ میں وہ دن ہے جب دفاع وطن کی راہ میں پہلا نشان حیدر امر ہوا، کیپٹن محمد سرور شہید نے اڑی سیکٹر میں غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔
جعلی ڈرنکس یونٹس کو پلاسٹک بوتلیں سپلائی کرنے والا یونٹ بے نقاب
ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن محمد سرور شہید نے پیش قدمی جاری رکھی اور دشمن کے مضبوط مورچوں کو بہادری سے فتح کیا، شدید زخمی ہونے کے باوجود کیپٹن سرور شہید نے آخری دم تک دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دفاع وطن کا حق ادا کیا، کیپٹن سرور شہید نے میدان جنگ میں بہادری،شجاعت اور جرات کی روشن مثال قائم کی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے ہمارے کتنے طیارے گرائے؟ بھارتی جنرل کے اعتراف نے مودی کا غرور خاک میں ملا دیا
ستھرا پنجاب پروگرام: صوبے بھرمیں مزید 136 ویسٹ ڈسپوزل پوائنٹس بنانے پر اتفاق
مسلح افواج نے کیپٹن سرور شہید (نشان حیدر) کو ان کی عظیم قربانی پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کیپٹن سرور شہید نے 27 جولائی 1948 کو پہلی کشمیر جنگ کے دوران آزاد کشمیر کے تلپترہ سیکٹر میں دشمن سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، مادرِ وطن کے دفاع میں ان کی بے مثال بہادری اور قربانی نے انہیں ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن سرور شہید کی قربانی قوم کیلئے مشعلِ راہ ہے، ان کی بہادری اور مادرِ وطن سے وفاداری کی داستان نئی نسل کے دلوں میں وطن سے محبت کا جذبہ جگاتی ہے۔
پاک فوج کا کہنا ہے کہ وطن عزیز کیلئے جان قربان کر دینا ہمارا طرۂ امتیاز ہے، کیپٹن سرور شہید کی شہادت ہماری تاریخ کا روشن باب ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے، مسلح افواج وطنِ عزیز کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہر قیمت پر تیار رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کیپٹن محمد سرور شہید کی کیپٹن سرور شہید سرور شہید نے کی قربانی عقیدت پیش شہادت پر نے کیپٹن شہید کے کہا کہ
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔