اب گوگل ویو 3 ساکت تصویر کو ویڈیو میں تبدیل کر سکتا ہے، نئی اپڈیٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: گوگل نے اپنے جدید اے آئی ویڈیو جنریٹر “ویو 3” (Veo 3) میں ایک نیا فیچر شامل کر دیا ہے، جس کی مدد سے اب صارفین ساکت تصاویر کو مختصر اور دلکش ویڈیوز میں تبدیل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق یہ نیا فیچر جیمنائی ایپ میں موجود ہے، جہاں “پروموٹ باکس” کے ٹولز میں “ویڈیوز” کے آپشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی بھی تصویر اپ لوڈ کی جا سکتی ہے۔ تصویر کے ساتھ صارف کو صرف مطلوبہ تصور اور آڈیو سے متعلق ہدایات تحریر کرنی ہوں گی، باقی تمام کام ویو 3 خود کرے گا۔
یہ ٹول مئی 2025 میں گوگل کی سالانہ ڈویلپر کانفرنس میں متعارف کرایا گیا تھا اور صرف AI Ultra اور AI Pro پلان کے صارفین کو دستیاب ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ گوگل نے پاکستان میں بھی ویو 3 اور گوگل فلو کی سہولیات فعال کر دی ہیں، جس سے مقامی صارفین بھی اب اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ویو 3 صرف سادہ ویڈیوز ہی نہیں بلکہ ساؤنڈ ایفیکٹس، بیک گراؤنڈ آوازیں اور ڈائیلاگ کے ساتھ مکمل ویڈیو جنریشن کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گوگل کے مطابق صرف 7 ہفتوں کے اندر جیمنائی ایپ اور فلو ٹول کے ذریعے صارفین 4 کروڑ سے زائد ویڈیوز بنا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ویو 3 سے تیار کردہ تمام ویڈیوز میں واضح اور نادیدہ واٹرمارکس موجود ہوتے ہیں تاکہ تخلیق کی شناخت برقرار رکھی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔