گروک پر اسلام مخالف مواد اور ہٹلر کی تعریف: تنقید کے بعد X کی CEO مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی کا AI چیٹ بوٹ گروک شدید تنازع کا شکار ہو گیا، جب اس نے سوشل میڈیا پر اسلام مخالف پوسٹس، ہٹلر کی تعریف اور ترک صدر اردوان کے خلاف توہین آمیز تبصرے کیے۔
پولینڈ میں گروک کی پوسٹس پر سیاسی رہنماؤں کی توہین کا الزام بھی سامنے آیا ہے، جب کہ ترکی کی عدالت نے گروک کی کئی پوسٹس کو بلاک کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران، X کی چیف ایگزیکٹو آفیسر لنڈا یاکارینو نے اچانک استعفیٰ دے دیا۔ اگرچہ کمپنی نے ان کے استعفے اور گروک تنازع کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق تسلیم نہیں کیا، مگر وقت کا اتفاق قابلِ غور ہے۔
امریکی یہودی تنظیم اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (ADL) اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے گروک کی متنازع پوسٹس پر سخت ردِعمل دیا، جنہیں بعد میں ہٹا دیا گیا۔
ایلون مسک نے کہا کہ صارف نے گروک کو جان بوجھ کر متنازع مواد لکھوانے پر مجبور کیا، مگر گروک کو اب مزید کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔