اوپن اے آئی جلد اپنا ویب براؤزر لانچ کرے گا، تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اوپن اے آئی، جو چیٹ جی پی ٹی جیسے انقلابی چیٹ بوٹ کی تخلیق کار ہے، اب گوگل کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھانے جا رہی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جلد ہی ایک نیا ویب براؤزر متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو صرف روایتی براؤزر نہیں ہوگا بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) کی طاقت سے لیس ایک جدید ترین ٹول ہوگا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ براؤزر آئندہ چند ہفتوں میں صارفین کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے۔ اوپن اے آئی اس براؤزر کے ذریعے صارفین کی روزمرہ زندگی، کام اور آن لائن سرگرمیوں میں خود کو مزید ضم کرنا چاہتی ہے، تاکہ اس کی AI سروسز مزید گہرائی کے ساتھ استعمال ہو سکیں۔
اس براؤزر کی خاص بات یہ ہوگی کہ یہ خودکار طور پر بہت سے کام انجام دے سکے گا۔ اس میں مختلف AI فیچرز شامل ہوں گے جو ویب پر سرچنگ، معلومات اخذ کرنے اور دیگر آن لائن افعال کو زیادہ آسان، تیز اور ذہین بنائیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اوپن اے آئی کے اس براؤزر کی بنیاد گوگل کے اوپن سورس کوڈ “کرومیم” پر رکھی جا رہی ہے، یعنی وہی کوڈ جو گوگل کروم، مائیکروسافٹ ایج اور اوپیرا جیسے مشہور براؤزرز میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔
اس کے یوزر انٹرفیس کو خاص طور پر گوگل کے AI Overviews جیسا رکھا جائے گا تاکہ صارف کو چیٹ جی پی ٹی سے بات چیت کا تجربہ براؤزر میں ہی حاصل ہو، یعنی گوگل کے سادہ سرچ بار کی جگہ ایک انٹیلجنس چیٹ انٹرفیس کا تصور۔
گو کہ چیٹ جی پی ٹی کو ہر ہفتے تقریباً 50 کروڑ صارفین استعمال کرتے ہیں، مگر گوگل کروم کے 3 ارب سے زائد صارفین کے مقابلے میں اوپن اے آئی کو اس دوڑ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔
یاد رہے کہ اوپن اے آئی پہلے ہی ایک AI سرچ انجن متعارف کرا چکی ہے، جس کا اعلان مئی 2024 میں کیا گیا اور نومبر 2024 میں اسے عوام کے لیے جاری کیا گیا۔
یہ نیا براؤزر اس بات کی علامت ہے کہ اوپن اے آئی صرف ایک چیٹ بوٹ کمپنی نہیں رہنا چاہتی بلکہ وہ AI کے ذریعے ویب براؤزنگ اور سرچنگ کے طریقے بدلنے کا ارادہ رکھتی ہے
ایک ایسا وژن جو ممکنہ طور پر آنے والے برسوں میں انٹرنیٹ کے استعمال کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اوپن اے آئی
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔