Islam Times:
2026-07-24@07:17:28 GMT

فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا پہلا قدم ہے، ناروے

اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT

فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا پہلا قدم ہے، ناروے

اپنے ایک ٹویٹ میں اسپن بارٹ ایڈ کا کہنا تھا کہ فلسطین، امن کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ناروے کے وزیر خارجہ "اسپن بارٹ ایڈ" نے گزشتہ سال مئی 2024ء میں اوسلو کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا صرف پہلا قدم ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ٹویٹ کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی عوام کو آزادی، مساوات اور ایک خودمختار ریاست بنانے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے بعد ہمیں اس خودمختار ریاست کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہو گا۔ مضبوط ادارے، مستحکم معیشت و موثر جمہوریت، ایک پائیدار اور مستقل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔ قبل ازیں نارویجین وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام امن کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امر کی جانب زور دیا کہ فلسطینیوں کو ایک خودمختار ملک کے قیام کا حق حاصل ہے۔

اس بارے میں بھی انہوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ٹویٹ کیا کہ فلسطین، امن کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہے۔ ہم نے آج میڈرڈ میں ایک کامیاب فلسطینی ریاست کے قیام کے اقدامات پر بات چیت کی۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کو ایک ایسے ملک کا حق حاصل ہے جو ان کی حمایت کرے اور انہیں امید دے۔ اس جنگ، اس تنازعے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اسپن بارٹ ایڈ نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ فلسطینی عوام کو اپنا ملک بنانے کا حق حاصل ہے۔ ہمارا یہ موقف برسوں پرانا ہے۔ یاد رہے کہ ناروے کے وزارت خارجہ نے مئی 2024ء میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئرلینڈ اور سپین کے ساتھ مل کر فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ صہیونی رژیم کے مظالم کی وجہ سے یورپ کے متعدد ممالک نے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کا حق حاصل ہے کہ فلسطینی فلسطین کو کہ فلسطین انہوں نے کو تسلیم کہا کہ

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری