جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر نے بھارت کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ فلسطین کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ فلسطین کے حق میں ہر کسی کو آواز اٹھانی چاہیئے۔ انہوں نے سعودی عرب کے تعاون اور کردار سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مظلومین کے تعاون کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے۔ انہوں نے بھارت ایکسپریس اردو سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ فلسطین کے حقوق کی آواز دنیا کے تمام انصاف پسند لوگ بلند کرتے ہیں، اس لئے ہم پوری دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور فلسطین کے معصوموں کو انصاف دلائیں۔ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ فلسطین کے حق میں ہر کسی کو آواز اٹھانی چاہیئے۔ انہوں نے سعودی عرب کے تعاون اور کردار سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مظلومین کے تعاون کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے۔ انہوں نے بھارت حکومت کے تعلق سے کہا کہ ہمارے ملک کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ فلسطین کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اقوام متحدہ میں بھی بھارت نے جنگ ختم کرنے، فلسطین کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کئے جانے کی بات دہرائی ہے۔

فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے 24 جولائی کو اعلان کیا کہ فرانس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو با ضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی، غزہ کے لئے بڑے پیمانے پر انسانی امداد اور ایک غیر فوجی فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، جو اسرائیل کے ساتھ مکمل تسلیم اور امن کے ساتھ ہم آہنگی سے رہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون اور فلسطینی حقوق کی حمایت قرار دیا، جبکہ اسرائیل نے اس کی مذمت کی اور اسے "دہشت گردی کی حوصلہ افزائی" قرار دیا۔ امریکہ نے بھی فرانس کے موقف پر تنقید کی لیکن 193 میں سے 147 اقوام متحدہ کے رکن ممالک پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کرچکے ہیں اور فرانس جی-7 کا پہلا ملک ہوگا جو یہ قدم اٹھائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طور پر تسلیم فلسطین کو فلسطین کے کہ فلسطین انہوں نے کے تعاون کہا کہ

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت