گوادر کی ترقی اور خصوصی اقتصادی زونز کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے چین کے ساتھ شراکت داری کے منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ گوادر کی ترقی اور خصوصی اقتصادی زونز کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال سے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے ملاقات کی، جس میں چین۔پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے جاری منصوبوں کی رفتار، پیش رفت اور آئندہ جے سی سی کے اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، اب دوسرا مرحلہ صنعتی تعاون، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سماجی ترقی پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک علاقائی رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں معاشی استحکام اور تعاون کو فروغ ملے گا۔
احسن اقبال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت سی پیک منصوبوں کی مکمل سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر نے گوادر کی ترقی اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوادر بندرگاہ کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت گوادر بندرگاہ کی تجارتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے، گوادر اور گرد و نواح میں معدنی وسائل کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے جدید انفرا اسٹرکچر کی مدد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
احسن اقبال نے زراعت کے شعبے میں چین کے ساتھ جاری تعاون پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ چین سے تربیت یافتہ پاکستانی زرعی گریجویٹس موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے پاکستان اسپیس سینٹر کے قیام کو قومی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ اس منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے لیے چین کلیدی کردار ادا کرے گا۔
چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ نے پاکستان کی ترقی میں چین کی مسلسل معاونت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون آنے والے برسوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ترقی اور خصوصی احسن اقبال نے کی ترقی میں چین کے لیے کہا کہ سی پیک
پڑھیں:
سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔