وفاقی وزیر احسن اقبال سے چینی سفیر کی ملاقات،جے سی سی میں اہم فیصلے متوقع
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
وفاقی وزیر احسن اقبال سے چینی سفیر کی ملاقات،جے سی سی میں اہم فیصلے متوقع WhatsAppFacebookTwitter 0 27 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال سے چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے ملاقات کی۔ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلی سطحی وفود نے بھی شرکت کی ، اس موقع پر وفاقی وزیر میری ٹائم افئیرز محمد جنید انوار چودھری بھی موجود تھے۔
احسن اقبال نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آئندہ ہونے والی مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی)میں اہم فیصلے متوقع ہیں جن سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات مزید بہتر ہوں گے، سی پیک کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، زراعت، آئی ٹی اور سماجی ترقی پر توجہ مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کو وسطی ایشیا سے جوڑنا خطے میں اقتصادی استحکام کا ذریعہ ہو گا، سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لئے حکومت نے اقدامات اٹھائے، گوادر کی ترقی اور اقتصادی زونز کی تعمیر اہم ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کا کہنا تھا کہ حکومت گوادر کی بندرگاہی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے، گوادر اور اس کے گردونواح میں معدنیات کے شعبے میں بے شمار مواقع موجود ہیں، جدید انفراسٹرکچر کے قیام کے ذریعے معدنیات کا بھرپور استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ زراعت کے شعبے میں شراکت داری جاری ہے، چین سے تربیت یافتہ ایگری گریجویٹس موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مددگار ہوں گے، پاکستان سپیس سینٹر کا قیام قومی اہمیت کا حامل ہے ، اس منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے لئے چین کلیدی کردار ادا کرے گا ۔دوسری جانب چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون آنے والے برسوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریو اے ای اور پاکستان نے ایک دوسرے کیلئے سفارتی اور آفیشل پاسپورٹ کو ویزا فری کردیا یو اے ای اور پاکستان نے ایک دوسرے کیلئے سفارتی اور آفیشل پاسپورٹ کو ویزا فری کردیا پاکستان کے امن ،سلامتی اوراستحکام کوچھیڑنے کی اجازت نہیں دیں گے،چیئرمین علما کونسل حافظ طاہر اشرفی کور کمانڈر بلوچستان کی مختلف جامعات کے طلبہ کیساتھ خصوصی نشست پنجاب میں اپنی چھت اپنا گھر پروگرام، بلاسود قرضوں کی فراہمی کا حجم بڑھا دیا گیا ڈی جی آئی ایس پی آراحمد شریف چوہدری کا جی سی یونیورسٹی لاہور کا دورہ سانحہ سوات ،انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کیلئے محکمہ داخلہ کا آئی جی کو خطCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر احسن اقبال
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔