قصور: معصوم بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے والے شخص کا کیا انجام ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
قصور میں گزشتہ سے پیوستہ روز ایک بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کرکے بھاگ کھڑا ہوجانے والا شخص پیر کو ایک اور جرم میں پکڑا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین سے متعلق غیراخلاقی زبان: ’عمر عادل کو انجام بھگتنا پڑے گا‘
یاد رہے کہ پہلا واقعہ تھانہ اے ڈویژن قصور کی حدود میں پیش آیا تھا۔ اس حوالے سے ایف آئی آر اتوار کو درج کروائی گئی جس میں بچی کے چچا کا مؤقف تھا کہ ان کی 7 سالہ بھتجی اور اس کا چھوٹا بھائی گلی میں کھیل رہے تھے کہ اچانک بچوں کے شور کی آواز سن کر وہ گیراج میں باہر نکلے تو معصوم بچی نے بتایا کہ ایک لڑکا اس کو نازیبا انداز میں چھو کر بھاگ نکلا۔
درخواست گزار کے مطابق اس شخص کا تعاقب کرنے کی کوشش کی گئی ملزم کہیں نظر نہیں آیا۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو فوٹیج بھی پولیس کو دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ایف آئی آر نامعلوم شخص کے خلاف کاٹی گئی اور پولیس اس حوالے سے متحرک ہوگئی۔
مزید پڑھیے: 3 اتوار، 3 بچیاں، ایک درندہ: پشاور میں سیریل ریپسٹ اور قاتل کو 5 مرتبہ سزائے موت
پولیس کا کہنا ہے کہ 28 جولائی کو پولیس نے شہباز روڑ گول چکر قصور پر ناکہ بندی کی ہوئی تھی کہ محر ر محمد الیاس کو اطلاع دی گئی کہ لاری اڈے پر ایک نامعلوم شخص ورادت کی نیت سے کھڑا تھا جس کو عوام کے ہجوم نے پکڑ لیا ہے۔
نا معلوم شخص کے ساتھ ہجوم ہاتھ پائی بھی کر رہا تھا۔ محرر محمد الیاس نے ایف آئی آر میں بتایا کہ وہ جب موقعے پر پہنچے تو عوام نے ملزم کو مضروب حالت میں پکڑا ہوا تھا۔
عوام سے واقع متعلق دریافت کیا گیا تو پتا چلا کہ وہ شخص کسی ورادت کی نیت سے کھڑا تھا جس کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس کی شلوار میں لگے پوستول سے ملزم نے 2 فائر کیے جس سے خود اس کے نچلے دھڑ کے نازک حصے زخمی ہوگئے۔
ملزم سے جب دریافت کیا کہ وہ کون ہے تو اس نے اپنا نام ناصر بتایا۔ وہ غیر مقامی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے ملزم کو ہجوم سے بچا کر بلھے شاہ اسپتال قصور فوری روانہ کیا۔
مزید پڑھیں: بندروں نے 6 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا شکار ہونے سے کیسے بچایا؟
پولیس نے پستول قبضے میں لیا اور پتا چلا کہ یہ وہی ملزم ہے جس کی 26 جولائی کو مذکورہ بچی سے نازیبا حرکت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل تھی اور متاثرہ بچی کے چچا نے اس حوالے سے اے ڈویژن تھانہ قصور میں مقدمہ بھی درج کروایا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بچی کے اتھ نازیبا حرکت قصور ملزم کو کیے کی سزا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بچی کے اتھ نازیبا حرکت ملزم کو کیے کی سزا نازیبا حرکت اس حوالے سے ایف آئی آر بچی کے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔