ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی بار 400 ارب ڈالر کی حد کراس کرگیا، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی بار 400 ارب ڈالر کی حد کراس کرگیا ہے۔
قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے 15 ویں اجلاس میں وزیر خزانہ نے کمیٹی کو آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کی مالیاتی تجاویز اور جاری مالی سال میں سپلیمنٹری مالیاتی تجاویز کے نتائج سے آگاہ کیا۔
وزیر خزانہ نے مالی سال 2026 کے بجٹ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مستقبل کی سمت، ٹیکسوں کی تعمیل اور انہیں یکساں بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے معیشت کے سدھار، معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری اور عالمی اداروں کے پاکستانی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد پر روشنی ڈالی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے پچھلے سال افراط زر کو23.
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کی نسبت جی ڈی پی میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ایف بی آر کے محصولات میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔ معیشت کے اعتبار سے ملکی قرضوں میں کمی اور پہلی دفعہ نہ صرف بروقت قرض ادائیگی کی بلکہ ایک ٹریلین روپے قرض مدت سے قبل ادا کیا۔
اسی طرح ترسیلات زر اس سال 38 ارب ڈالر تک ہوں گی۔ پچھلے 2 سالوں میں ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ملکی ایکسچینج ریٹ سال بھر مستحکم رہا۔ زرمبادلہ کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.5 ارب ڈالر ہو گئے۔
بریفنگ میں انہوں نے مزید بتایا کہ پرائمری سرپلس معیشت کے 3 فیصد کر برابر ہو گیا جو پچھلے 20 سالوں کی بلند ترین سطح ہے۔ پچھلے سال کے 1.3 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کی نسبت اس سال کرنٹ اکاؤنٹ 1.9 ارب ڈالر سرپلس ہے۔ ملکی برآمدات میں تقریباً 7 فیصد اور بالخصوص آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ان تمام معاشی کامیابیوں اور حاصل شدہ اہداف کو عالمی مالیاتی اداروں، سروے کمپنیوں اور ریٹنگ ایجنسیوں نے تسلیم کیا ہے۔ فچ اور دیگر ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محض معیشت میں بہتری ہماری منزل نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی منزل کے حصول کا راستہ ہے۔ ہم اس راستے پر عزم اور یقین سے چلتے رہیں گے اور ایک دیرپا اور پائیدار معاشی خوشحالی کا خواب پورا کریں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ٹیرف، ٹیکس نظام، توانائی، پنشن اور نج کاری شعبے میں بنیادی اور کلیدی اصلاحات کی ہیں۔ اپوزیشن کے ڈھونڈورے کے باوجود سال بھر میں کوئی منی بجٹ نہیں آیا۔ ہم نے ٹیکس بنیادوں کو وسعت دی، انفورسمنٹ اور کمپلائنس سے ٹیکس لیکیجز کو کم کیا اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس میں کمی گئی۔ تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا گیا۔ حکومت متوسط طبقے کو گھروں کی تعمیر کے لیے سستے قرضے دے گی۔ زراعت پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔ چھوٹے کاروباروں کو فنانسنگ سپورٹ دی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 700 ارب سے زائد اضافہ کیا جس سے ایک کروڑ سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیرف اور خام مال کی ڈیوٹیوں میں کمی کے ذریعے ایکسپورٹرز کو فائدہ پہنچا کربرآمدات بڑھائی جائیں گی۔
ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی بار 400 ارب ڈالر کی حد کراس کرگیا، وزیر خزانہ
اسلام آباد
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی بار 400 ارب ڈالر کی حد کراس کرگیا ہے۔
قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے 15 ویں اجلاس میں وزیر خزانہ نے کمیٹی کو آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کی مالیاتی تجاویز اور جاری مالی سال میں سپلیمنٹری مالیاتی تجاویز کے نتائج سے آگاہ کیا۔
وزیر خزانہ نے مالی سال 2026 کے بجٹ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مستقبل کی سمت، ٹیکسوں کی تعمیل اور انہیں یکساں بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے معیشت کے سدھار، معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری اور عالمی اداروں کے پاکستانی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد پر روشنی ڈالی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے پچھلے سال افراط زر کو23.4 فیصد سے 4.6 فیصد تک کم کیا۔ شرح سود 22 فیصد کی ریکارڈ بلند سطح سے 11 فیصد کی سطح پر آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی دفعہ 400 ارب ڈالر کی حد کراس کر گیا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کی نسبت جی ڈی پی میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ایف بی آر کے محصولات میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔ معیشت کے اعتبار سے ملکی قرضوں میں کمی اور پہلی دفعہ نہ صرف بروقت قرض ادائیگی کی بلکہ ایک ٹریلین روپے قرض مدت سے قبل ادا کیا۔
اسی طرح ترسیلات زر اس سال 38 ارب ڈالر تک ہوں گی۔ پچھلے 2 سالوں میں ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ملکی ایکسچینج ریٹ سال بھر مستحکم رہا۔ زرمبادلہ کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.5 ارب ڈالر ہو گئے۔
بریفنگ میں انہوں نے مزید بتایا کہ پرائمری سرپلس معیشت کے 3 فیصد کر برابر ہو گیا جو پچھلے 20 سالوں کی بلند ترین سطح ہے۔ پچھلے سال کے 1.3 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کی نسبت اس سال کرنٹ اکاؤنٹ 1.9 ارب ڈالر سرپلس ہے۔ ملکی برآمدات میں تقریباً 7 فیصد اور بالخصوص آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ان تمام معاشی کامیابیوں اور حاصل شدہ اہداف کو عالمی مالیاتی اداروں، سروے کمپنیوں اور ریٹنگ ایجنسیوں نے تسلیم کیا ہے۔ فچ اور دیگر ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محض معیشت میں بہتری ہماری منزل نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی منزل کے حصول کا راستہ ہے۔ ہم اس راستے پر عزم اور یقین سے چلتے رہیں گے اور ایک دیرپا اور پائیدار معاشی خوشحالی کا خواب پورا کریں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ٹیرف، ٹیکس نظام، توانائی، پنشن اور نج کاری شعبے میں بنیادی اور کلیدی اصلاحات کی ہیں۔ اپوزیشن کے ڈھونڈورے کے باوجود سال بھر میں کوئی منی بجٹ نہیں آیا۔ ہم نے ٹیکس بنیادوں کو وسعت دی، انفورسمنٹ اور کمپلائنس سے ٹیکس لیکیجز کو کم کیا اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس میں کمی گئی۔ تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا گیا۔ حکومت متوسط طبقے کو گھروں کی تعمیر کے لیے سستے قرضے دے گی۔ زراعت پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔ چھوٹے کاروباروں کو فنانسنگ سپورٹ دی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 700 ارب سے زائد اضافہ کیا جس سے ایک کروڑ سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیرف اور خام مال کی ڈیوٹیوں میں کمی کے ذریعے ایکسپورٹرز کو فائدہ پہنچا کربرآمدات بڑھائی جائیں گی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ریٹنگ ایجنسیوں نے انہوں نے کہا کہ فیصد اضافہ ہوا برآمدات میں کرنٹ اکاؤنٹ سے آگاہ کیا ترسیلات زر پچھلے سال پہلی دفعہ مالی سال معیشت کے کی نسبت فیصد کی طبقے کو سال بھر کم کیا اس سال کیا ہے سال کے کے لیے
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین