گورنر کے پی کا بجٹ اجلاس بلانے کیلئے سمری پر دستخط سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بجٹ اجلاس بلانے کےلیے سمری پر دستخط سے انکار کردیا اور وزیراعلیٰ کی بھیجی گئی سمری واپس نہ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بجٹ کےلیے اسمبلی کا اجلاس بلانے کی سمری ملی ہے، سمری کو دیکھ رہا ہوں، آئین کے مطابق 14 روز تک سمری پر دستخط کرنے کا پابند ہوں، سمری پر آج ہی دستخط کرنے کا پابند نہیں ہوں۔
گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی والے چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں رہیں اور یہ مال بناتے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام آئینی و قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد سمری پر دستخط کروں گا، کسی کا پابند نہیں کہ ہر صورت سمری پر دستخط آج ہی کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ یا کسی اور کی دھمکیوں اور دباؤ میں آکر کبھی سمری پر دستخط نہیں کروں گا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ ریاست پر حملے کرنے والے انتشاری ٹولے سے ڈرنے والا نہیں، کے پی میں کرپشن کا بازار گرم کرنے والوں کی دھمکیوں سے کوئی ڈر نہیں، وزیراعلیٰ کے پی اپنی گیڈر بھکیوں سے باز آجائیں، وزیراعلیٰ مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں، مجھے بتائیں میں آجاتا ہوں، آمنے سامنے دیکھ لیں گے۔
گزشتہ روز گورنر نے اسمبلی کا اجلاس بلانے کی سمری منظور کرنے سے متعلق ہینڈ آوٹ جاری کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اجلاس بلانے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔