بلاول بھٹو کی اسرائیل کے ایران پر بلااشتعال حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
سٹی 42 : پاکستان کے سفارتی مشن کے سربراہ بلاول بھٹو نے اسرائیل کے ایران پر بلااشتعال حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
بلاول بھٹو نے ایرانی عوام سے اس مشکل کی گھڑی میں دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا اور خطے کے امن و استحکام کو سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام ذمہ دار اقوام اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، ذمہ دار اقوام اور اقوام متحدہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے مل کر کردار ادا کریں۔
فنڈز کی کمی: نگران دورِ حکومت میں تعمیر کیے گئے تھانے فعال نہ ہو سکے
انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کے مثبت کردار سے جارحیت اور تصادم کے بجائے دنیا میں امن اور سلامتی کو فروغ حاصل ہوگا ۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔