’ساتھ کام نہیں کر پائیں گے‘، خلیل الرحمان قمر کا ہمایوں سعید کے ساتھ کام نہ کرنے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)معروف پاکستانی ڈراما نگار خلیل الرحمان قمر نے عندیہ دیا ہے کہ شاید وہ مستقبل میں معروف اداکار ہمایوں سعید کے ساتھ کام نہ کریں۔
خلیل الرحمن قمر نے حال ہی میں ایک شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی۔ اس موقع پر میزبان نعیم حنیف نے ان سے ہمایوں سعید کے متعلق سوال کیا کیونکہ ماضی میں دونوں نے مشہور پراجیکٹس میں ایک ساتھ کام کیا تھا جو کہ سپر ہٹ ثابت ہوئے۔
میزبان نے سوال کیا کہ خلیل الرحمن قمر لازم و ملزوم سے ہو گئے ہیں ایسا کیوں ہے جس پر ڈرامہ نگار کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے اب نہ رہیں، کیونکہ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے میری کانپیں ٹانگتی ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم اب زیادہ کام نہیں کر پائیں گے۔
فلم انڈسٹری کی زوال پر بات کرتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ پنجابی کے بغیر اردو فلم کا چلنا ممکن نہیں ہے، انہوں نے پنجابی فلموں کے خاتمے کو زوال کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجابی فلموں کا معیار ہدایت کاروں نے خود خراب کیا ہے کیونکہ اس میں غنڈوں و بدمعاشوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ ہمایوں سعید نے خلیل الرحمٰن قمر کے ساتھ کئی پراجیکٹس میں کام کیا ہے، جن میں مشہور ڈراما ’میرے پاس تم ہو‘ اور فلمیں ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ اور ’لندن نہیں جاؤں گا‘ شامل ہیں۔
مزیدپڑھیں:پہلی بار بگ بیش لیگ میں شمولیت پر بابر اعظم نے کیا کہا؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ہمایوں سعید ساتھ کام انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔