لاہور(نیوز ڈیسک)معروف پاکستانی ڈراما نگار خلیل الرحمان قمر نے عندیہ دیا ہے کہ شاید وہ مستقبل میں معروف اداکار ہمایوں سعید کے ساتھ کام نہ کریں۔

خلیل الرحمن قمر نے حال ہی میں ایک شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی۔ اس موقع پر میزبان نعیم حنیف نے ان سے ہمایوں سعید کے متعلق سوال کیا کیونکہ ماضی میں دونوں نے مشہور پراجیکٹس میں ایک ساتھ کام کیا تھا جو کہ سپر ہٹ ثابت ہوئے۔

میزبان نے سوال کیا کہ خلیل الرحمن قمر لازم و ملزوم سے ہو گئے ہیں ایسا کیوں ہے جس پر ڈرامہ نگار کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے اب نہ رہیں، کیونکہ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے میری کانپیں ٹانگتی ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم اب زیادہ کام نہیں کر پائیں گے۔

فلم انڈسٹری کی زوال پر بات کرتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ پنجابی کے بغیر اردو فلم کا چلنا ممکن نہیں ہے، انہوں نے پنجابی فلموں کے خاتمے کو زوال کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجابی فلموں کا معیار ہدایت کاروں نے خود خراب کیا ہے کیونکہ اس میں غنڈوں و بدمعاشوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔

واضح رہے کہ ہمایوں سعید نے خلیل الرحمٰن قمر کے ساتھ کئی پراجیکٹس میں کام کیا ہے، جن میں مشہور ڈراما ’میرے پاس تم ہو‘ اور فلمیں ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ اور ’لندن نہیں جاؤں گا‘ شامل ہیں۔
مزیدپڑھیں:پہلی بار بگ بیش لیگ میں شمولیت پر بابر اعظم نے کیا کہا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ہمایوں سعید ساتھ کام انہوں نے کے ساتھ

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا