اسرائیل کا ایران پر حملہ، عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال،بیشتر بین الاقوامی سٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13جون 2025)ایران پر اسرائیل کے حملے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال،بیشتر بین الاقوامی سٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان،ایشیائی منڈیاں ہی نہیں بلکہ یورپی مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار ہیں،چین،جرمنی، فرانس اور نیوزی لینڈ کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی دیکھی جا رہی ہے،تفصیلات کے مطابق چینی مارکیٹ میں 0.
(جاری ہے)
ویت نام کے وی این تھرٹی انڈیکس میں 1.3 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔دوسری جانب ایران پر حملے کے بعد عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے نرخ فی اونس سونا 46 ڈالر اور فی تولہ 4600 روپے بڑھ گئے۔
ایران پر حملے کے بعد عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے نرخ فی اونس سونا 46 ڈالر اور فی تولہ 4600 روپے بڑھ گئے۔ایران پر اسرائیلی حملہ مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ کے باعث عالمی و مقامی مارکیٹس میں سونا مزید مہنگا ہوگیا، سونے کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ تین روز سے جاری ہے۔آل صراف اینڈ جیولر ایسوسی کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 46 ڈالر اضافے سے 3417 ڈالر پر پہنچ گیا۔صراف ایسوسی ایشن سے جاری اعداد و شمار کے مطابق چوبیس قیراط فی تولہ سونا 4600 روپے مہنگا ہوکر 3 لاکھ 61 ہزار 500 روپے کا ہوگیا جبکہ دس گرام سونا 4023 روپے اضافے سے 3 لاکھ 10 ہزار 7 روپے پر آگیا۔خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد عالمی منڈی خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیاتھا۔خام تیل کی قیمت میں 10 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 9.07 فیصد کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد قیمت 75.65 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمت میں 10 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 9.07 فیصد کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد قیمت 75.65 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ روس یوکرین جنگ کے بعد سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا تھا۔عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے خطرات کے پیش نظر مارکیٹ میں بے یقینی کی فضا ہے جس نے تیل کی قیمتوں کو اوپر کی جانب دھکیل دیا تھا۔ ماہرین کا کہناتھا کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن تھاجس کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں تھیں اس بات کی تصدیق ٹرمپ کے اپنے شہریوں اور امریکی عملے کے انخلا کے اعلان اور اسرائیل ایران تنازعے کے خدشات سے بخوبی کی جا سکتی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حملے کے بعد عالمی خام تیل کی قیمت مارکیٹس میں کی قیمت میں مارکیٹ میں ریکارڈ کی ایران پر کے مطابق
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔