سندھ کے بجٹ میں تنخواہوں میں12اور پنشن میں 8فیصد اضافہ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلئے ریلیف کا اعلان کردیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بجٹ پیش کررہے ہیں،سندھ اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران اپوزیشن ارکان کا شور شرابہ جاری ہے،اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی جارہی ہے ،اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈیسک کا گھیراؤ کر رکھا ہے۔
مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کے عوام نے پیپلزپارٹی پر اعتمادکااظہار کیا، بجٹ کا حجم 34کھرب51ارب روپے رکھاگیا ہے۔
شادی کا شوق ہے، چاہتی ہوں نخرے اٹھانے والا شوہر ملے:خدیجہ سلیم
وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلئے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ گریڈ16تک تنخواہوں میں 12فیصد اضافہ ہوگا، گریڈ17سے 22تک ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ ہوگا، گریڈ17سے 22کے ملازمین کو 10فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے کہاکہ پنشن میں 8فیصد اضافہ کیا جائے گا، معذور ملازمین کیلئے کنوینس الاؤنس بڑھایا گیا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔