26 نومبر احتجاج کیس، غیر حاضر پی ٹی آئی کارکنان کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی ورکرز کیخلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمات کی سماعت ملزمان کی حاضری کے بعد ملتوی کردی، بعدازاں عدالت نے غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ تھانہ آبپارہ کے مقدمہ کی سماعت 15 جولائی جبکہ تھانہ سنگجانی کے مقدمہ میں کیس کی سماعت 14 جولائی تک ملتوی کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی ورکرز کیخلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمات کی سماعت ملزمان کی حاضری کے بعد ملتوی کردی۔ انسداد دہشت گردی کے جج طاہر عباس سپرا نے کیسز پر سماعت کی، پی ٹی آئی راہنما شاندانہ گلزار ورکرز سےی اظہارِ یکجہت کیلئے عدالت میں پیش ہوئیں، سردار محمد مصروف خان ایڈووکیٹ اور عائشہ خالد ایڈووکیٹ ورکرز کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔ بعدازاں عدالت نے غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے، تھانہ آبپارہ کے مقدمہ کی سماعت 15 جولائی جبکہ تھانہ سنگجانی کے مقدمہ میں کیس کی سماعت 14 جولائی تک ملتوی کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔