بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عبوری ضمانتیں منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں جلائو گھیرائو کے دو مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عبوری ضمانتیں منظورکر لی گئیں۔ سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کی۔سماعت کے دوران عدالت نے وکلا کے طرزِ عمل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ جان بوجھ کر بیل لمبی کر رہے ہیں، عدالت میں پیش نہیں ہوتے، اگر کورٹ میں آنا پسند نہیں تو پولیس کے سامنے کیسے جائیں گے؟۔جج ارشد جاوید نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت میں بھی یہی کچھ کیا گیا، آٹھ ماہ بیل چلائی گئی اور آخرکار عدم پیروی پر خارج کرنا پڑی۔ عدالت نے وکیل کو یاد دلایا کہ پچھلی سماعت پر بھی آپ نے کہا کہ وہ فیصل آباد میں ہیں، ایسا رویہ عدالتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سال سال ضمانتیں چلا کر عدالتوں کا نام خراب نہ کریں۔واضح رہے کہ یہ مقدمات 5 اکتوبر کو ہونے والے جلا ئوگھیرا ئوکے واقعات سے متعلق ہیں جن میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو نامزد کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔