سندھ کے بجٹ برائے سال 26-2025 میں کراچی کے لیے کن منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
26-2025سندھ کے بجٹ 26-2025 میں کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ بجٹ : سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 12 فیصد، پنشن میں 8 فیصد اضافہ
سڑکوں کی مرمت، سیوریج اور پانی کی فراہمی کے نظام کی بہتری کےلیے رقوم مختص کی گئی ہیں۔ کراچی میں شہری ٹرانسپورٹ کو وسعت دی جائے گی اور ڈیجیٹل گورننس کے لیے بھی کئی اقدامات کیے جائیں گے۔
کراچی میں فراہمی آب کی سکیموں کے لیے 8866 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، آئندہ مالی سال کراچی میں 333 پرائمری اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کی تجویز ہے اور سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی حاضری ڈیجیٹائز کرنے کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل ہے۔
جائیکا کے تعاون سے 20 گرلز پرائمری اسکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے 537 ملین بجٹ میں تجویز کیے گئے ہیں۔
اگلے مالی سال میں ایک لاکھ 40 ہزار سولر ہوم سسٹم تقسیم کیے جائیں گے، کلک منصوبے کے تحت کراچی میں 21074 ملین خرچ کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیے: صوبہ سندھ کے بجٹ سال 2025-26 میں عوام کے لیے خاص کیا ہے؟
کراچی میں شہری ٹرانسپورٹ کو وسعت دی جائے گی اور پاکستان کی پہلی 50 الیکٹرک بسیں کراچی میں متعارف کرائی جائیں گی۔ کراچی میں اگست 2025 تک مزید 100 بسیں شامل کی جائیں گی۔
کراچی کے بی آر ٹی منصوبوں میں پیشرفت اور یلو لائن بھی بجٹ میں شامل ہیں جبکہ ریڈ لائن پر 50 فیصد سے زائد کا مکمل منصوبہ شامل ہے۔ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ میں اے آئی کیمروں اور کوریج میں وسعت کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ کورنگی کاز وے پل اور شاہراہ بھٹو کی بہتری کے لیے اقدامات بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: سندھ میں صحت کا بجٹ کہاں کہاں لگے گا؟
تاریخی مقامات کی بحالی اور کاروباری علاقوں کی بہتری کی اسکیمیں بھی بجٹ میں رکھی گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ بجٹ سندھ بجٹ میں کراچی کے لیے منصوبے کراچی کے لیے ترقیاتی منصوبے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ بجٹ میں کراچی کے لیے منصوبے کراچی کے لیے ترقیاتی منصوبے
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔