اسرائیل کی بدمعاشی کو روکا نہ گیا تو ہم وسیع اور طویل جنگ سے دوچار ہوجائیں گے، ترک صدر اردوان
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو ’خطرناک اشتعال انگیزی‘ اور ’بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
صدر اردوان نے ایک بیان میں کہا ’اسرائیل کی جارحیت خطے کے امن اور عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ یہ حملے نہ صرف قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیے تہران، نطنز، تبریز کے بعد کرمانشاہ پر بھی اسرائیلی فضائی حملے، بیلسٹک میزائلوں کی ذخیرہ گاہ تباہ
ترک صدر کا یہ بیان اسرائیل کے اس فضائی آپریشن کے بعد سامنے آیا ہے جسے ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں 200 سے زائد جنگی طیاروں نے ایران کے تقریباً 100 فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ رپورٹوں کے مطابق حملوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینیئر کمانڈر اور جوہری سائنس دان شہید ہوئے ہیں۔
ایران نے اس حملے کے جواب میں اسرائیل پر 100 سے زائد ڈرونز داغے، جس سے خطے میں کشیدگی شدید ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے فوری اجلاس طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل ایک دہشتگرد ریاست، نیتن یاہو کا اختتام قریب ہے، ترک صدر اردوان
صدر اردوان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو فوری طور پر جارحیت روکنے پر مجبور کرے اور مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے سنجیدہ سفارتی اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی بدمعاشی کو اگر روکا نہ گیا تو ہم سب ایک وسیع اور طویل جنگ کی طرف چلے جائیں گے جس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران کشیدگی ترکیہ رجب طیب اردوان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران کشیدگی ترکیہ رجب طیب اردوان صدر اردوان
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔