صیہونی حملہ: دو اسرائیلی طیارے مار گرائے، خاتون پائلٹ گرفتار، ایران کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاع نے اسرائیلی حکومت کے دو جنگی طیارے مار گرائے ہیں، جن میں سے ایک کی خاتون پائلٹ کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے،اس دعوے کی تاحال ایرانی حکومت یا اسرائیل کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے جدید فضائی دفاعی نظام نے اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے دو لڑاکا طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کیا،ان میں سے ایک طیارے کی پائلٹ خاتون تھیں، جنہیں ایرانی فورسز نے زندہ گرفتار کرلیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طیاروں کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایران کے حساس علاقوں کی طرف بڑھ رہے تھے، ان دعووں کی بین الاقوامی سطح پر آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی اور نہ ہی اسرائیلی دفاعی افواج یا وزارتِ دفاع نے ان رپورٹس پر کوئی ردعمل دیا ہے۔
خیال رہےکہ ایران کی جانب سے ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت اسرائیل پر 100 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ ہے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے، جن میں ایرانی جوہری اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔