اسلام آباد : صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف کی اسرائیل کے ایران پر بلااشتعال حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے کشیدگی روکنے کیلئے فوری اقدامات کی اپیل کردی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ایران پر اسرائیل کے بلا اشتعال حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔وزیراعطم نے لکھا حملے میں جانی نقصان پر ایرانی عوام سے گہری ہمدردی کا اظہارکرتا ہوں.

یہ سنگین اورانتہائی غیر ذمےدارانہ عمل انتہائی تشویشناک ہے اور یہ پہلے سے غیرمستحکم خطے کو مزید غیرمستحکم کرنے کا خطرہ ہے۔وزیراعطم کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری اوراقوام متحدہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ مزید کشیدگی روکنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔صدر مملکت آصف زرداری نے بھی ایران کےخلاف اسرائیلی جارحیت کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسرائیلی حملوں میں جانوں کے ضیاع پر ایرانی عوام سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو چاہیے اسرائیلی جارحیت کااحتساب کرے، اسرائیلی حملےایران کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسرائیلی حملےاقوام متحدہ کےمنشور،عالمی قوانین کےبنیادی اصولوں کی پامالی ہیں . عالمی برادری صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کیلئے فوری کارروائی کرے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: صدر مملکت ایران پر

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان