حماس کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے اسرائیل کو روکنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ایران پر اسرائیلی حملوں کو وحشیانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے متحدہ مؤقف اختیار کرے اور اس کے جرائم کا خاتمہ یقینی بنائے۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جارحیت ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہے جو خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ یہ انتہا پسند نیتن یاہو حکومت کی جانب سے خطے کو کھلی جنگ کی طرف گھسیٹنے کی سازش کی عکاسی کرتی ہے۔
مزید پڑھیں :ایران پر اسرائیلی حملے 2024 کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید اور غیر متوقع کیوں؟
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی حملے بین الاقوامی اصولوں اور کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل پورے خطے کے لیے وجودی خطرہ بن چکا ہے۔
حماس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت اور عوام کو سینئر کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کی شہادت پر گہری تعزیت پیش کی ہے۔
مزید پڑھیں :پاکستان کی ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دو ٹوک ردعمل
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے خطرات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور متعدد عالمی قوتیں کشیدگی کم کرنے کی کوشش میں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی حملے ایران حماس فلسطینی مزاحمتی تنظیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی حملے ایران فلسطینی مزاحمتی تنظیم ایران پر اسرائیلی اسرائیلی حملے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔