تہران (نیوزڈیسک)اسرائیل نے ایران کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا، فضائی حملوں میں جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی اور جوہری سائنسدان شہید ہوگئے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں،دارالحکومت تہران کے شمال مشرقی علاقے میں بھی دھماکوں کی زور دار آوازیں سنی گئیں اور بعض مقامات سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔

ایرانی میڈیا نے دارالحکومت تہران کے شمالی، مغربی اور وسطی علاقوں پر حملےکی تصدیق کر دی۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے ایران پر پیشگی حملہ کر دیا ہے، ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔

اسرائیلی فوجی عہدیدار کے مطابق اسرائیل جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنا گیا، اسرائیل نے ایران میں درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا۔اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں لڑاکا طیاروں نے حملے میں حصہ لیا۔

امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کی فوجی قیادت کی رہائش گاہوں سمیت 6 فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں تہران میں واقع اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کا ہیڈکوارٹر نشانہ بنا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری شہید ہو گئے ہیں، کمانڈر حسین سلامی کو بھی شہید کر دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں متعدد سینئر جوہری سائنسدان بھی مارے گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی اور جوہری سائنسدان فریدعباسی اور محمد مہدی شہید ہو گئے.

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جائے وقوعہ سے آگ اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا، جس میں متعدد بچے شہید ہو گئے ہیں۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس حملے میں پاسداران انقلاب کے سربراہ یا دیگر عہدیداروں کی شہادت کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

تہران میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، جب کہ خطے میں جاری کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی اور جوہری سائنسدان فریدعباسی اور محمد مہدی شہیدہوگئے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے کہا ہے کہ تہران میں پاسداران انقلاب کے صدر دفتر کو اسرائیل نے نشانہ بنایا۔

ختم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد کی بھی ان حملوں میں شہید ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔اس کے علاوہ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر اورمحافظ کمانڈر شمخانی بھی اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران کے رہائشی علاقے پر اسرائیلی حملے میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔جاں بحق ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہم اسرائیل کی تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر ہیں، ہماری لڑائی ایرانی عوام سے نہیں بلکہ ایرانی آمریت سے ہے.

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے جوہری افزودگی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ہماری لڑائی ایرانی عوام سے نہیں بلکہ ایرانی آمریت سے ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایران پر اسرائیل کے حملوں کا مقصد اس کے جوہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا ہے، حملوں کو مقصد بیلسٹک میزائل فیکٹریوں اور دیگرفوجی اہداف کو بھی نقصان پہنچانا ہے۔

ملک کا فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر الرٹ ہے، ایران

ایران کا کہنا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر الرٹ ہے۔ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اصفحان صوبے میں بھی دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

اس کے علاوہ ایران نے تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں معطل کر دی ہیں جبکہ ایرانی قیادت کا اعلیٰ سکیورٹی اجلاس جاری ہے۔

ایران نے اپنی فضائی حدود تاحکم ثانی بند کر دی ہے۔

ایران کی جانب سے جوابی بیلسٹک حملوں کا خدشہ ہونے کے سبب اسرائیل میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

اسرائیلی حملے میں ہمارا کوئی کردار نہیں،امریکا کی وضاحت
امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو کا کہنا ہے کہ ہم ایران کے خلاف حملوں میں ملوث نہیں، ہماری ترجیح خطے میں امریکی افواج کا تحفظ ہے۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ اسرائیل نے ہم سے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی اپنے دفاع کے لیے ضروری تھی۔

واضح رہے کہ ایران پر یہ حملے اتوار کو طے امریکا ایران بلواسطہ مذاکرات سے دوروز پہلے کیے گئے ہیں اور ایرانی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے جارحیت کی تو سخت جواب دیا جائے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے جوہری معاہدہ نہ ہوا تو ممکنہ طور پر اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے جوہری مسئلے کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہیں، انتظامیہ کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی ہدایت کی ہے، سخت مذاکرات ہوں گے، سب سے پہلے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کا عمل ترک کرنا ہوگا۔
جاز پر 22 ارب روپے کا جرمانہ، تاریخی عدالتی فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف بی آر کے حق میں فیصلہ سنا دیا

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میں پاسداران انقلاب کے سربراہ اسرائیلی حملے میں اسرائیل نے ایران کے مطابق اسرائیل جوہری سائنسدان کو نشانہ بنایا ایرانی میڈیا حسین سلامی کہ اسرائیل اسرائیل کی کی جانب سے حملوں میں کہ ایران تہران کے ایران پر ایران کے گئے ہیں کا کہنا تھا کہ نے کہا کر دیا

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم