جنوبی غزہ میں ٹیکنالوجی کور کے افسر سمیت 2 اسرائیلی فوجی مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کی گولانی بریگیڈ کی ریکی یونٹ پر ایک دھماکہ خیز آلہ حملے کا نشانہ بنی، جس کے نتیجے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور ایک افسر زخمی ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں:2 ہفتوں میں 10 اسرائیلی فوجیوں کی خودکشی، اسرائیل میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
ہلاک ہونے والوں میں 22 سالہ کپتان عامر سعد، جو یانوح-جات کا رہائشی اور ٹیکنالوجی و مینٹیننس کور کا افسر شامل ہے۔
دوسرا فوجی 20 سالہ سارجنٹ اینون نوریئیل وانا تھا، جس کا تعلق کریات تیفون سے تھا اور وہ بھی اسی یونٹ میں تعینات تھا۔
فوج کے مطابق دونوں اہلکار ایک نَمر بکتر بند گاڑی میں سوار تھے جب خان یونس کے علاقے میں یہ دھماکہ ہوا۔ زخمی افسر کو درمیانی نوعیت کی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ بم کو کس طریقے سے نصب اور فعال کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی اسرائیلی فوجی جنوبی غزہ خان یونس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی اسرائیلی فوجی خان یونس اسرائیلی فوجی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔