اسلام آباد:

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے تشکیل کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے پی سی ایس آئی آر لاہور کی لیبارٹری میں ٹیسٹ رپورٹس میں ٹیمپرنگ اور بدانتظامی کی تصدیق کر دی.

کمیٹی نے متعلقہ افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے چھالیہ کے معطل شدہ ٹیسٹنگ یونٹ کو سخت کوالٹی کنٹرول پروٹوکولز کے بعد بحال کرنے کی تجویز دی ہے۔

پی سی ایس آئی آر لیبارٹریوں کی کارکردگی کا آڈٹ کرانے کی بھی سفارش کی گئی ،ذرائع کے مطابق، افلاٹوکسن ٹیسٹنگ میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئیں جن میں ٹیسٹ رپورٹس میں رد و بدل اور دستاویزات میں تضادات شامل ہیں.

کمیٹی نے ڈی جی پی سی ایس آئی آر لاہور ڈاکٹر قرۃ العین سید، پرنسپل سائنسی افسر ڈاکٹر یاسر سلیم اور ریسرچ آفیسر ڈاکٹر عشرت پروین کے خلاف انضباطی کارروائی کی سفارش کی ہے.

ذرائع کے مطابق کمیٹی سربراہ جوائنٹ سیکرٹری بلال بٹ کے آفس میں پی سی ایس آئی آر کے آٹھ افسران پیش ہوئے،کمیٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر رپورٹ کی گئی ویلیو تجزیاتی رپورٹ سے مطابقت رکھتی جسے بدنیتی پر مبنی طور پر منسوخ کر دیا گیا ،اسکی معقول وجہ بیان نہیں کی گئی.

ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر قرۃ العین سید نے پرنسپل سائنسی افسر ڈاکٹر یاسر سلیم اور ریسرچ آفیسر ڈاکٹر عشرت پروین کی ملی بھگت سے حقائق کو مسخ کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی سی ایس ا ئی ا ر ر ڈاکٹر

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش