Islam Times:
2026-06-03@08:10:28 GMT

بین الاقوامی ناکامی

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

بین الاقوامی ناکامی

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر ان ناکامیوں کے ساتھ ساتھ، ڈونلڈ ٹرمپ اندرون خانہ سیاست میں بھی سنگین بحرانوں سے روبرو ہے۔ اس نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر کو اختلافات کے عروج پر برطرف کر دیا، امریکہ کی اقتصادی اور میڈیا طاقت کی علامت تصور کیے جانے والے شخص یعنی ایلن ماسک سے تعلقات کی جگہ تلخ کلامی اور ایکدوسرے کے راز فاش کرنے نے لے لی اور اب ٹرمپ کو کیلی فورنیا سمیت کئی ریاستوں میں تارکین وطن کے بڑے پیمانے پر احتجاج کا سامنا ہے۔ تارکین وطن کا ایشو، جسے کبھی ٹرمپ اپنی صدارتی مہم میں اپنے حق میں استعمال کرتا تھا، اب اس کی نسل پرستانہ اور دھوکہ دہی پر مبنی امیگریشن پالیسیوں کے باعث سماجی ناراضگی کی علامت بن چکا ہے۔ سڑکوں کے مناظر اور پولیس گردی ایک بے بس امریکہ کی تصویر کشی کر رہے ہیں جو اب مزید دنیا میں جمہوریت کا علمبردار ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا۔ یاسر فرخ پارسا
 
1)۔ ڈونلڈ ٹرمپ جو "عالمی بحرانوں کے فوری حل" کے نعرے سے وائٹ ہاؤس میں داخل ہوا تھا، اب اسے ایسے مسائل کا سامنا ہے جو نہ صرف حل نہیں ہوئے بلکہ خارجہ پالیسی میں اس کی اسٹریٹجک کمزوریاں بن چکے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ دعوی کہ وہ "یوکرین میں جنگ کو ایک دن میں ختم کر سکتا ہے" کئی بار دہرایا گیا، لیکن آخرکار اس نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ یہ جملہ محض ایک مذاق تھا اور اس کا مطلب "فیصلہ سازی کی رفتار میں اضافہ کرنا" تھا۔ ٹرمپ کے موقف میں یہ تبدیلی نہ صرف حکمت عملی میں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ امریکہ کے اندرونی سیاسی، سیکورٹی اور میڈیا حلقوں کی جانب سے ٹرمپ پر بہت زیادہ دباؤ کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ مزید برآں، اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ جیسی متنازع شخصیت بھی اسٹریٹجک ناکامیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
 
2)۔ یوکرین کے مسئلے میں شکست واضح طور پر ثابت ہو چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیف کی حمایت منقطع کرنے کے وعدے نہ صرف جنگ ختم ہونے کا باعث نہیں بنے بلکہ ان کی وجہ سے امریکہ کے اتحادی یورپی ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ "طاقت کے بدلے امن" نامی ٹرمپ کے منصوبے کا دنیا بھر میں مذاق اڑایا گیا اور بدلے میں روس، جنگ کو لمبا کر کے میدان جنگ میں طاقت کا توازن اپنے حق میں تبیل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ دریں اثنا، غزہ کے مسئلے نے بھی امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ کے امیج کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اپنی پہلی مدت صدارت میں ٹرمپ کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم کی غیر مشروط حمایت، اب غزہ میں صیہونی رژیم کے نامحدود مجرمانہ اقدامات سے بھی جڑ گئی ہے۔ ایسے مجرمانہ اقدامات جنہیں حتی امریکی میڈیا بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔
 
3)۔ ٹرمپ، جو اپنی دوسری مدت صدارت کے دوران غاصب صیہونی رژیم کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے یمن کو مکمل طور پر امریکہ کا مطیع بنانے کی کوشش میں مصروف تھا، اب اس کی حالت یہ ہے کہ وہ خطے میں طاقت کی نئی حقیقت قبول کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ یمن پر امریکی فضائی حملوں کی ناکامی اور انصار اللہ کے ٹھکانوں پر ان حملوں کے بے اثر ہونے کے بعد نہ صرف ٹرمپ کا فوجی منصوبہ بری طرح ناکام ہو گیا بلکہ امریکہ غیر اعلانیہ طور پر یہ بات قبول کرنے پر بھی مجبور ہو چکا ہے کہ بحیرہ احمر میں اپنی جہاز رانی کے راستوں کی سیکورٹی کے لیے اسے صیہونی رژیم کی سلامتی کو نظرانداز کرتے ہوئے انصار اللہ یمن کی رضامندی حاصل کرنی پڑے گی اور حتی ریاض اور ابوظہبی میں اپنی اتحادی حکومتوں کی رائے سے بھی چشم پوشی اختیار کرنا ہو گی۔ یہ حقیقت بحیرہ احمر میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
 
4)۔ اگرچہ ایران کے مسئلے میں ابھی ٹرمپ کو یقینی شکست نہیں ہوئی لیکن موجودہ حالات اور ٹرمپ کے طرز عمل سے پالیسی سازی میں تعطل کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ ایران میں یورینیم افزودگی کے مکمل خاتمے پر مبنی ٹرمپ کے حد سے زیادہ نامعقول مطالبے نیز زبانی دھمکیوں نے عملی طور پر کسی بھی طرح کے منطقی مذاکرات کا راستہ روک دیا ہے۔ ٹرمپ نے زیادہ سے زیادہ دباؤ کا ماحول بنا کر تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی لیکن ایران نے اپنی اندرونی طاقت، علاقائی اثر و رسوخ اور مقامی جوہری صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ وہ کمزور پوزیشن میں مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔ اگر ٹرمپ نے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی نہیں کی تو ایران کے مسئلے میں شکست بھی اس کی ناکامیوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گی۔
 
5)۔ عالمی سطح پر ان ناکامیوں کے ساتھ ساتھ، ڈونلڈ ٹرمپ اندرون خانہ سیاست میں بھی سنگین بحرانوں سے روبرو ہے۔ اس نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر کو اختلافات کے عروج پر برطرف کر دیا، امریکہ کی اقتصادی اور میڈیا طاقت کی علامت تصور کیے جانے والے شخص یعنی ایلن ماسک سے تعلقات کی جگہ تلخ کلامی اور ایکدوسرے کے راز فاش کرنے نے لے لی اور اب ٹرمپ کو کیلی فورنیا سمیت کئی ریاستوں میں تارکین وطن کے بڑے پیمانے پر احتجاج کا سامنا ہے۔ تارکین وطن کا ایشو، جسے کبھی ٹرمپ اپنی صدارتی مہم  میں اپنے حق میں استعمال کرتا تھا، اب اس کی نسل پرستانہ اور دھوکہ دہی پر مبنی امیگریشن پالیسیوں کے باعث سماجی ناراضگی کی علامت بن چکا ہے۔ سڑکوں کے مناظر اور پولیس گردی ایک بے بس امریکہ کی تصویر کشی کر رہے ہیں جو اب مزید دنیا میں جمہوریت کا علمبردار ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا۔
 
6)۔ ایسے حالات میں ٹرمپ نے خارجہ تعلقات کی بحالی یا خارجہ پالیسی کی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے کے بجائے آگے بھاگ کر اندرونی بحران پیدا کرنے کا سہارا لیا ہے۔ تارکین وطن پر حد سے زیادہ توجہ، اپنے میڈیا کارکنوں کے خلاف دھمکی آمیز بیانات اور نرم خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا وہ حربے ہیں جو ٹرمپ استعمال کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی ایشوز میں شدید ناکامی کا براہ راست نتیجہ اندرونی تشدد کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ اب ٹرمپ دنیا میں ایک طاقتور امیج پیش کر کے اپنے حامیوں کو قائل نہیں کر سکتا لہذا وہ گھر میں دشمن تراشی کر کے اپنا سیاسی وقار بحال کرنے کے درپے ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں اب ماضی کی تاثیر نہیں رہی۔ نہ ڈیٹرنس پاور، نہ بین الاقوامی اتفاق رائے پیدا کرنے کی طاقت اور نہ ہی علاقائی اتحادیوں کو سنبھالنے کی صلاحیت۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نہیں کر سکتا صیہونی رژیم تارکین وطن ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی کے مسئلے کی علامت ٹرمپ کے چکا ہے

پڑھیں:

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ

آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔

اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔

مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ