عمران خان نے بیٹوں کو پاکستان آنے سے نہیں روکا، صرف تاریخ کا تعین باقی ہے: پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کے بیٹے پاکستان ضرور آئیں گے اور اس معاملے پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، البتہ فی الوقت صرف آمد کی تاریخ کا تعین باقی ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک ’ٹوئٹ‘ میں انہوں نے کہاکہ جب عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تھا تو انہوں نے اپنے والد کو صاف طور پر کہا تھا کہ ہم اجازت نہیں مانگ رہے بلکہ صرف اطلاع دے رہے ہیں، اس لیے اس حوالے سے گردش کرنے والے پروپیگنڈوں سے گریز کیا جائے کیونکہ ان کا کوئی فائدہ نہیں۔
عمران خان صاحب کے بچوں کے حوالے سے میڈیا پہ جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ بالکل غلط ہیں عمران خان صاحب نے اپنے بچوں کو پاکستان انے سے قطعا نہیں روکا ہے /میں میڈیا کے وہ دوست جو اڈیالہ میں رپورٹنگ کرتے ہیں ان سے گزارش کروں گا کہ من و عن وہی چیزیں چلایا کریں جو خان صاحب کہتے ہیں…
— Sheikh Waqas Akram (@SheikhWaqqas) July 29, 2025
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بچوں سے متعلق میڈیا پر جو اطلاعات گردش کررہی ہیں وہ بے بنیاد اور غلط ہیں۔ عمران خان نے اپنے بیٹوں کو پاکستان آنے سے ہرگز نہیں روکا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل سے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں سے گزارش ہے کہ عمران خان کے بیانات کو جوں کا توں نشر کریں، ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر یا سلیکٹو انداز میں پیش کرنا نامناسب عمل ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ عمران خان نے اپنے بیٹوں کو پاکستان آنے سے روک دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اڈیالہ جیل پاکستان آمد پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی عمران خان عمران خان بیٹے وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل پاکستان ا مد پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی عمران خان بیٹے وی نیوز کہ عمران خان عمران خان کے پاکستان آنے کو پاکستان نے اپنے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔