آصف زرداری ایوان صدر چھوڑیں گے تو وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھیں گے، ناصر حسین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیرتوانائی سندھ نے کہا کہ حکومت کی دو تہائی اکثریت ہوگئی تو پہلے شوشہ چھوڑا گیا حکومت کی مدت دس سال کی جا رہی ہے، وہ بات ذہنوں میں نہ بیٹھی تو کہا گیا صدر زرداری کو تبدیل کیا جا رہا ہے، یہ بھی ناممکن ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر توانائی ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ صدر زرداری ایوان صدر چھوڑیں گے تو وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھیں گے۔ وزیر توانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری کہیں نہیں جارہے، اگر وہ ایوان صدر چھوڑیں گے تو وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھیں گے اور وزیراعظم پیپلز پارٹی کا ہوگا۔ وزیر توانائی سندھ نے کہا کہ حکومت کی دو تہائی اکثریت ہوگئی تو پہلے شوشہ چھوڑا گیا حکومت کی مدت دس سال کی جا رہی ہے، وہ بات ذہنوں میں نہ بیٹھی تو کہا گیا صدر زرداری کو تبدیل کیا جا رہا ہے، یہ بھی ناممکن ہے۔ واضح رہے کہ کچھ دنوں سے آصف زرداری کو ایوان صدر سے نکالے جانے کی افواہیں زیر گردش ہیں تاہم حکومت اور اتحادیوں کی جانب سے مشترکہ طور پر ان افواہوں کی تردید کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔