بے زبانوں کی اذیت: پاکستان میں جانور بے یارو مددگار کیوں ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 جون 2025ء) بنیادی نگہداشت کی کمی اور عوامی آگاہی کے فقدان نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں 'شیرو‘ جیسے جانور خاموشی سے اذیت اُٹھاتے ہوئے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
شیرو: تماشے سے تنہائی تک کا سفرعمر رسیدہ، بینائی اور دانتوں سے محروم ہمالیائی بھورا ریچھ 'شیرو‘ نے اپنی زندگی کے قیمتی سال مختلف سرکسوں اور چڑیا گھروں میں گزارے، جہاں سہولیات کا فقدان اور مالکان کی مبینہ بدسلوکی اس کی موجودہ حالت کی عکاسی کرتی ہے۔
سرکس سے آزادی پانے کے بعد شیرو کو لاہور کے چڑیا گھر منتقل کیا گیا، جہاں سے جنوری 2024 ء میں چڑیا گھر کی تعمیرِ نو کے دوران اسے جلو جنگلیحیات افزائش فارم بھیج دیا گیا۔(جاری ہے)
نامناسب حالات اور سخت موسم کی وجہ سے شیرو کی صحت خراب ہوگئی، جس کی بگڑتی ہوئی حالت کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد حکام نے اسے فوری طور پر مری منتقل کیا۔
مری یا اسلام آباد، فیصلہ ابھی باقی'شیرو'کے مقدمے میں درخواست گزار التَمش سعید نے ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں ایک درخواست دائر کی،جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شیرو کو مری سے اسلام آباد منتقل کیا جائے تاکہ اس کی مناسب دیکھ بھال کی جا سکے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ بھورا ریچھ ایک تنگ اور کنکریٹ سے بنے احاطے میں تنہا ہے، جو اس کے حساس وجود اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسی مخلوقات اس طرز کی رہائش کی حق دار ہیں جو ان کی جسمانی اور ذہنی ضروریات کو پورا کرسکے۔ عدالت نے اس پر حکام کو حکم دیا کہ شیرو کو اسلام آباد منتقل کیا جائے، تاہم محکمہ جنگلات کی جانب سے تاحال اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجرز مری، محمد ابرار کے مطابق، شیرو کو بانسرا گلی پارک میں چار کمروں پر مشتمل ایک الگ تھلگ عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ اسے پرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے۔ محمد ابرار کا یہ بھی کہنا تھا کہ مری میں جانوروں کے لیے مستقل مسکن موجود نہیں، لیکن اس حوالے سے بات چیت جاری ہے تاکہ مستقبل میں ان کے لیے باقاعدہ مستقل مسکن قائم کیا جا سکے۔
شیرو کے اگلے ٹھکانے کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ جانوروں سے متعلق موجودہ قوانین کتنے مؤثر ہیں؟جانوروں کے حقوق کے وکیل التمش سعید کے مطابق، پاکستان میں جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ پنجاب حکومت نے حال ہی میں پنجاب وائلڈ لائف (تحفظ اور انتظام) ایکٹ 1974 ء میں ترمیم کرتے ہوئے نئی شقیں شامل کی ہیں جو جانوروں پر ظلم کی ۔
ان ترامیم کے تحت جنگلی جانوروں کو مناسب خوراک، دیکھ بھال اور پناہ فراہم نہ کرنا ظلم تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم ملک میں جانوروں سے متعلق قانون کے ماہرین کی کمی، چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی شعبہ، ان قوانین کے مؤثر نفاذ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ کمی قانون کی درست تشریح اور جانوروں کے مفادات کے تحفظ کو بھی متاثر کرتی ہے۔
وکیل التمش سعید کے مطابق، اصل مسئلہ جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی مؤثر اور جانوروں کے مفاد میں تشریح نہ ہونا ہے۔
زیادہ تر بدسلوکی کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے اور نہ ہی اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے، جس سے جانوروں کو انصاف نہیں ملتا۔ راولپنڈی ایوب پارک میں کالے ریچھ کی بے چینیراولپنڈی کے ایوب نیشنل پارک میں سیاح گلفام احمد نے اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ چڑیا گھر میں موجود کالا ریچھ بے حد بےچین نظر آ رہا تھا۔
وہ کبھی اندر جاتا، کبھی باہر آتا، کبھی پانی میں چھلانگ لگاتا اور فوراً ہی باہر نکل آتا تھا۔ وہ بار بار پانی کے نلکے کی طرف جاتا مگر پانی نہیں پیتا تھا۔ اس اضطراب سے واضح تھا کہ وہ گرمی سے سخت پریشان ہے اور اسے اپنی جسمانی ساخت کے مطابق مخصوص ماحول کی ضرورت ہے،جو یہاں دستیاب نہیں۔ ماہرین کے مطابق جانوروں کی خوراک، صحت اور دیگر ضروریات کو خاص طور پر شدید موسم میں روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کے چڑیا گھروں کی کہانیماہرین کا کہنا ہے کہ شیرو کی کہانی پاکستان کے ہر چڑیا گھر اور جنگلی حیات کے نظام میں موجود سنگین خامیوں کو اجاگر کرتی ہے۔مناسب دیکھ بھال کا فقدان، کمزور قوانین، اور عمر رسیدہ یا زخمی جانوروں کے لیے ریسکیو سینٹرز کا نہ ہونا اور شیرو کی کہانی اس کی واضح مثال ہے۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ عدالت نے ابتدائی حکم میں شیرو کو چکوال منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم وہاں سے معلوم ہوا کہ چکوال میں جانوروں کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں اور نہ ہی وہاں کا درجہ حرارت ریچھ کے لیے موزوں ہے۔
اسی بنیاد پر ریچھ کو اسلام آباد کے وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ عوامی دباؤ کا کیا کردار ہے؟سعید کے مطابق، عوامی دباؤ جانوروں کے تحفظ کی کوششوں میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ نہ صرف معاشرتی شعور اجاگر کرتا ہے بلکہ قانونی کارروائی کے لیے بھی راہ ہموار کرتا ہے۔ جانوروں پر ہونے والے ظلم کے متعدد واقعات آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتے ہیں، جو جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کو فوری قانونی کارروائی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہی عوامی دباؤ ریچھ کو بالکاسر ریچھ پناہ گاہ اور اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی سہولت میں منتقل کرنے کے عدالتی فیصلے میں بھی کارگر ثابت ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام آباد وائلڈ لائف جانوروں کے منتقل کیا چڑیا گھر کے مطابق شیرو کو کے تحفظ کے لیے
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک غلط اندازہ یا ایک بے قابو فوجی کارروائی پورے مشرقِ وسطی کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اب صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا اسلام آباد کا دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ون آن ون ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور موجودہ جنگی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس وقت کا انتخاب خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم رابطہ کار اور ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز، عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اگر اس تنا میں حوثی تحریک اور سعودی عرب براہِ راست آمنے سامنے آ جاتے ہیں تو پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسی صورتِ حال لازما “منی ورلڈ وار” میں تبدیل ہو جائے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر متعدد علاقائی اور بین الاقوامی فریق براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو گئے تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ایسے حالات میں پاکستان کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکہ اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔ یہی متوازن تعلقات اسلام آباد کو ایسے ممالک میں شامل کرتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔گزشتہ مہینوں میں بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ ایرانی وزیر داخلہ براہِ راست اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی خطے کے دارالحکومتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ کسی نئی ثالثی یا معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے متوازن خارجہ تعلقات کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔دنیا کو اس وقت جنگی نعروں سے زیادہ امن کے پیغام کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطی پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے، اور ایک نئی وسیع جنگ نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔آج اسلام آباد صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ امید کی ایک ممکنہ کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت، متوازن پالیسی اور تمام فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں بروئے کار لاتا ہے تو وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔تاریخ میں بعض اوقات جنگیں طاقت سے نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری سے رکی ہیں۔ شاید یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں بندوقوں کی گھن گرج سے زیادہ اہمیت مذاکرات کی میز کو حاصل ہو سکتی ہے۔مشرقِ وسطی کی موجودہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو صرف میزائلوں کا تبادلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگوں پر منڈلاتا ہوا خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ چکی ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں یا وہاں سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف باب المندب بھی حوثی کارروائیوں کے باعث غیر محفوظ ہو جاتا ہے، تو دنیا ایک غیر معمولی تیل و گیس بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ خطرہ محض عالمی خبروں تک محدود نہیں۔ سعودی عرب سے آنے والے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم حصہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے بحری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر ان آئل ٹینکروں پر حملے شروع ہو جاتے ہیں یا جہاز رانی شدید متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو ایندھن کی سپلائی، درآمدی لاگت، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے بحران جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سفارتی توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ہے، دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست، اہم اقتصادی شراکت دار اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا بڑا ملک ہے۔ اسلام آباد کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا تقاضا ہے۔ایران اور یمن کے حوثی رہنماں کو بھی پاکستان کی اس مجبوری اور حساس پوزیشن کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان آنے والے توانائی کے بحری راستے متاثر ہوں یا پاکستان کے مفادات براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں، تو خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطی ایک وسیع تر بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان اپنی متوازن سفارت کاری، علاقائی اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ کے شعلوں کو پھیلنے سے روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیل گیا تو اس کی تپش صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ واقعی آگ کے الا میں تبدیل ہو سکتا ہے۔