ایران کا اسرائیل کے تیسرے ایف-35 طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ؛ پائلٹ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ کل سے آج تک اسرائیل کے تین جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے جن میں ایک پائلٹ ہلاک اور دو زیر حراست ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے چینل کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک اور اسرائیلی ایف-35 جنگی طیارے کو مار گرایا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی طیارہ مغربی علاقے میں گرا۔ پائلٹ کو جہاز سے نکلنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تیسرا اسرائیلی طیارہ مار گرانے کی کارروائی ممکنہ طور پر ایرانی ساختہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کی گئی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایران نے دو مزید ایف-35 طیارے بھی مار گرائے تھے۔ جس میں ایک پائلٹ ہلاک ہوگیا تھا اور دوسری خاتون پائلٹ حراست میں ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا آغاز گزشتہ روز ہوا جب صیہونی حکومت نے تہران میں رہائشی عمارتوں پر حملے کردیے جس میں ٹاپ رینک آرمی قیادت اور نامور ایٹمی سائنس دان سمیت 100 افراد شہید ہوگئے۔
جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر پانچ مرحلوں میں بیلسٹک میزائل داغے جن سے 150 سے زائد فوجی اور انٹیلی جنس اہداف کو شدید نقصان پہنچایا اور 10 سے زائد ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
اس وقت ایران مزید اسرائیلی اہداف کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں مزید بڑے پیمانے پر میزائل حملے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب اسرائیل نے بھی ایران میں 150 سے زائد اہداف کو مسلسل نشانہ بنایا ہے جن میں فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں۔
عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں نے دونوں ممالک سے تناؤ میں کمی کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن جنگ کسی صورت تھمتی نظر نہیں آ رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔