وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ، اسرائیلی حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
فوٹو فائل
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
وزیرِ اعظم آفس کے مطابق ایرانی صدر سے گفتگو کے دوران وزیرِ اعظم نے کہا کہ اسرائیلی حملہ ایران کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسرائیلی حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہے، ایران کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے ایرانی صدر سے کہا کہ اسرائیل کی بلا اشتعال اور بلاجواز جارحیت پر پاکستان حکومتِ ایران اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔
ایران نے اسرائیل کا تیسرا ایف 35 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے مشکل وقت میں ایران کی حمایت اور یکجہتی پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر نے بالخصوص اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کی حمایت پر بھی وزیرِاعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو اسرائیل کے ساتھ بحران پر ایران کے نقطۂ نظر سے آگاہ کیا۔
ایرانی صدر نے عالمی برادری اور اسلامی ممالک سے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیا۔
وزیرِاعظم آفس کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
وزیرِ اعظم نے حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر ایرانی صدر سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل کی اشتعال انگیزی اور مہم جوئی علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اعظم شہباز شریف کہا کہ اسرائیل کے لیے
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔