وزیراعلیٰ گنڈا پور کی اسلام آباد کی جانب مسلح پیش قدمی کی دھمکی، اب گولی کا جواب گولی دیں گے
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
پشاور:
وزیر اعلی خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے مسلح ہوکر اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کا اعلان کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے پیٹرن انچیف کی رہائی کے لئے پشاور میں جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ سمیت دیگر حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔
جلسہ تاخیر سے شروع ہوا اور کوئی بھی رہنما مقامی وقت تک پنڈال نہ پہنچا، جلسے کی وجہ سے ورسک روڈ پر ٹریفک کی صورت حال بدترین رہی۔
وزیراعلیٰ کے جلسہ گاہ پہنچنے پر آتش بازی کی گئی جبکہ علی امین گنڈا پور نے اسٹیج پر آتے ہی پیٹرن انچیف کے حق میں نعرے بازی کی۔
جلسہ سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے خطاب کیا اور پارٹی کے پیٹرن انچیف کی رہائی کا مطالبہ دہرایا۔
حیران کن طور پر جلسہ گاہ میں بجلی بلا تعطل جاری رہی جبکہ اطراف کے علاقے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے تاریکی میں ڈوبے رہے۔
وزیراعلیٰ کی مسلح ہوکر اسلام آباد مارچ کی دھمکی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مسلح ہوکر اسلام آباد جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اگر تم گولی مارو گے تو جواب میں ہم بھی گولی چلائیں گے اور صرف گولی نہیں چلے گی بلکہ تمھیں ٹھوک کر ماریں گے۔
انہوں نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختون خوا کے عوام تیار رہیں اگر ہم پر گولی چلی تو پھر انہیں بھی گولی کھانی پڑے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔