وزیراعلی گنڈا پور کی اسلام آباد کی جانب مسلح پیش قدمی کی دھمکی، اب گولی کا جواب گولی دیں گے
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
پشاور: وزیر اعلی خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے مسلح ہوکر اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے پیٹرن انچیف کی رہائی کے لئے پشاور میں جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ سمیت دیگر حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔
جلسہ تاخیر سے شروع ہوا اور کوئی بھی رہنما مقامی وقت تک پنڈال نہ پہنچا، جلسے کی وجہ سے ورسک روڈ پر ٹریفک کی صورت حال بدترین رہی۔
وزیراعلیٰ کے جلسہ گاہ پہنچنے پر آتش بازی کی گئی جبکہ علی امین گنڈا پور نے اسٹیج پر آتے ہی پیٹرن انچیت کے حق میں نعرے بازی کی۔
جلسہ سے سابق ڈپٹی سپیکر محمود جان اور سابق ایم این اے ساجد نوازنے خطاب کیا اور پارٹی کے پیٹرن انچیف کی رہائی کا مطالبہ دہرایا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔