پشاور‘ بچوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے واقعات، چار ماہ میں 128 کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جون2025ء)خیبرپختونخوا میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور پرتشدد واقعات کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سنٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے 128 واقعات رپورٹ ہوئے، جب کہ مختلف پرتشدد واقعات میں 36 بچے جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مجموعی طور پر 3 سنگین کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔(جاری ہے)
پولیس نے ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائیاں کیں، جن میں 205 ملزمان کو نامزد کیا گیا، جب کہ 183 کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جا چکا ہے۔پولیس حکام کے مطابق ان واقعات کی مکمل چھان بین جاری ہے اور مجرموں کو سخت سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی پہلوؤں پر کام کیا جا رہا ہے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو مزید فعال بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ماہرین نے ان اعداد و شمار کو باعثِ تشویش قرار دیتے ہوئے والدین، اساتذہ اور حکومتی اداروں پر زور دیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششیں کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بچوں کے ساتھ زیادتی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔