انسداد پولیو مہم: ساڑھے 4 کروڑ بچوں کو ویکسین پلائی گئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن) وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زاید بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر پولیو کا دورہ کرتے ہوئے حالیہ انسداد پولیو مہم کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزیر صحت نے بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور پولیو کے مکمل خاتمے کیلیے بار بار ویکسینیشن ناگزیر ہے جبکہ معمول کی حفاظتی ویکسین ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ ڈاکٹر مختار بھرتھ نے واضح کیا کہ حفاظتی ٹیکوں کی کوریج میں بہتری لانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ پولیو کے خاتمے کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے، خاص طور پر ہائی رسک علاقوں میں۔ وزیر صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو پولیو سے مکمل طور پر پاک بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔