Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:39:17 GMT

ایران کے جوابی حملوں پرتل ابیب میں چیخ وپکار

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

ایران کے جوابی حملوں پرتل ابیب میں چیخ وپکار

اسلام آباد(طارق محمود سمیر)اسرائیل اور ایران کے درمیان جو حالیہ جنگ جاری ہے، اس میں اسرائیل کی طرف سے ایران پر بڑے ٹارگٹڈ حملے تھے۔ گزشتہ رات ایران نے مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ کل سے آج تک اسرائیل کے تین جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے جن میں ایک پائلٹ ہلاک اور دو زیر حراست ہیں۔ تل ابیب کے اندر چیخوں کی آوازیں بھی آئی ہیں، افراتفری بھی پھیلی ہے، نقصانات بھی ہوئے ہیں اور کچھ فوٹیج جو سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق یہ پہلی مرتبہ اسرائیل کو مؤثر جواب دیا گیا۔ماضی میں حماس اور حزب اللہ کی تنظیموں کے پاس میزائل ٹیکنالوجی نہیں تھی جو بیلسٹک میزائل ایران نے استعمال کیے۔ معاملہ یہ ہے کہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور اس سارے معاملے میں ایران میں رجیم چینج کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے اندر حکومت تبدیل کرائی جائے، آیت اللہ علی خامنہ ای کو استعفے دینے پر مجبور کیا جائے اور اس طرح کی باتیں میڈیا میں بھی شروع ہو گئی ہیں۔اب اسرائیل ایران کے جو تیل کے ذخائر ہیں، ان کو ٹارگٹ کر رہا ہے۔ ایران کو پہلے بھی معیشت اور دیگر حوالوں سے بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان سب کا مقصد ایران کو مزید نقصان پہنچانا ہے۔ ایران نے امریکہ کے حوالے سے جو مذاکرات کیے ہیں، اس میں امریکہ پر اندھا اعتماد کیا گیا اور ایرانی حکومت کو یہ غلط فہمی تھی کہ جب تک یہ مذاکرات جاری ہیں، اسرائیل حملہ نہیں کرے گا۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایران کے حق میں قراردادیں پاس ہوئیں، مضبوط بیانات دیے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے آج ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور پاکستان کی طرف سے بھرپور حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ترکیہ نے بھی ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ باقی مسلم ممالک سے خاموشی ہے۔اسمبلی کے اندر وزیر دفاع خواجہ آصف نے اہم باتیں کہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ صدیوں سے تعلقات ہیں، ایران کے ساتھ تاریخی رشتہ ہے۔ آزمائش کی گھڑی میں ہر طریقے سے ایران کے ساتھ ہیں، ہم ایرانی مفادات کے تحفظ کی حفاظت کریں گے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تمام مسلم ممالک کو متحد ہو کر اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔نریندر مودی اور نیتن یاہو کے درمیان گزشتہ رات ٹیلیفون پر بھی بات ہوئی ہے۔ دنیا کے لیے یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اسرائیل اور بھارت ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اب ہمیں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ایک اور معاملہ بھی بڑا اہم ہے کہ بھارت کو آئی ایم ایف میں پاکستان کے خلاف رکاوٹ بننے میں ناکامی کی طرح فیٹف (FATF)میں بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارت کے سفارتی وفد کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر فیٹف گرے لسٹ میں شامل کرایا جائے۔ تاہم اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے بجائے رپورٹنگ پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جب سے آپریشن بنیان مرصوص کامیاب ہوا تھا اور پاکستان کو تاریخی کامیابی ملی تھی، تو ہندوتوا اور صہیونی لابی دونوں کی یہ مشترکہ کوشش تھی کہ پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں شامل کیا جائے، اور اس میں ناکامی ہوئی ہے۔ اس سے قبل بھارت نے آئی ایم ایف کا پیکج بھی رکوانے کی کوشش کی تھی، جس میں وہ بھی ناکام رہا۔ تو یہ پاکستان کے لیے بڑی اچھی خبر ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان کو ایران نے ایران کے کے ساتھ کے اندر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم