ایران کے جوابی حملوں پرتل ابیب میں چیخ وپکار
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
اسلام آباد(طارق محمود سمیر)اسرائیل اور ایران کے درمیان جو حالیہ جنگ جاری ہے، اس میں اسرائیل کی طرف سے ایران پر بڑے ٹارگٹڈ حملے تھے۔ گزشتہ رات ایران نے مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ کل سے آج تک اسرائیل کے تین جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے جن میں ایک پائلٹ ہلاک اور دو زیر حراست ہیں۔ تل ابیب کے اندر چیخوں کی آوازیں بھی آئی ہیں، افراتفری بھی پھیلی ہے، نقصانات بھی ہوئے ہیں اور کچھ فوٹیج جو سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق یہ پہلی مرتبہ اسرائیل کو مؤثر جواب دیا گیا۔ماضی میں حماس اور حزب اللہ کی تنظیموں کے پاس میزائل ٹیکنالوجی نہیں تھی جو بیلسٹک میزائل ایران نے استعمال کیے۔ معاملہ یہ ہے کہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور اس سارے معاملے میں ایران میں رجیم چینج کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے اندر حکومت تبدیل کرائی جائے، آیت اللہ علی خامنہ ای کو استعفے دینے پر مجبور کیا جائے اور اس طرح کی باتیں میڈیا میں بھی شروع ہو گئی ہیں۔اب اسرائیل ایران کے جو تیل کے ذخائر ہیں، ان کو ٹارگٹ کر رہا ہے۔ ایران کو پہلے بھی معیشت اور دیگر حوالوں سے بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان سب کا مقصد ایران کو مزید نقصان پہنچانا ہے۔ ایران نے امریکہ کے حوالے سے جو مذاکرات کیے ہیں، اس میں امریکہ پر اندھا اعتماد کیا گیا اور ایرانی حکومت کو یہ غلط فہمی تھی کہ جب تک یہ مذاکرات جاری ہیں، اسرائیل حملہ نہیں کرے گا۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایران کے حق میں قراردادیں پاس ہوئیں، مضبوط بیانات دیے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے آج ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور پاکستان کی طرف سے بھرپور حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ترکیہ نے بھی ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ باقی مسلم ممالک سے خاموشی ہے۔اسمبلی کے اندر وزیر دفاع خواجہ آصف نے اہم باتیں کہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ صدیوں سے تعلقات ہیں، ایران کے ساتھ تاریخی رشتہ ہے۔ آزمائش کی گھڑی میں ہر طریقے سے ایران کے ساتھ ہیں، ہم ایرانی مفادات کے تحفظ کی حفاظت کریں گے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تمام مسلم ممالک کو متحد ہو کر اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔نریندر مودی اور نیتن یاہو کے درمیان گزشتہ رات ٹیلیفون پر بھی بات ہوئی ہے۔ دنیا کے لیے یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اسرائیل اور بھارت ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اب ہمیں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ایک اور معاملہ بھی بڑا اہم ہے کہ بھارت کو آئی ایم ایف میں پاکستان کے خلاف رکاوٹ بننے میں ناکامی کی طرح فیٹف (FATF)میں بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارت کے سفارتی وفد کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر فیٹف گرے لسٹ میں شامل کرایا جائے۔ تاہم اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے بجائے رپورٹنگ پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جب سے آپریشن بنیان مرصوص کامیاب ہوا تھا اور پاکستان کو تاریخی کامیابی ملی تھی، تو ہندوتوا اور صہیونی لابی دونوں کی یہ مشترکہ کوشش تھی کہ پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں شامل کیا جائے، اور اس میں ناکامی ہوئی ہے۔ اس سے قبل بھارت نے آئی ایم ایف کا پیکج بھی رکوانے کی کوشش کی تھی، جس میں وہ بھی ناکام رہا۔ تو یہ پاکستان کے لیے بڑی اچھی خبر ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کو ایران نے ایران کے کے ساتھ کے اندر
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین