حکومت پاکستان ایران کی حمایت میں اقدامات کرے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ ایران کی حمایت میں اقدامات کئے جائیں، اسرائیل بدمست ہاتھی بن چکا ہے جس سے پورے خطے کی سلامتی کو خطرہ ہے۔جماعت اسلامی کی نومنتخب مجلس شوریٰ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت نے ایران پر اسرائیلی حملہ کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ جماعت اسلامی اور پوری پاکستانی قوم ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے۔مجلس شوریٰ کا تین روزہ اجلاس منصورہ میں جاری ہے۔ اجلاس میں ملک بھر سے منتخب اراکین شرکت کررہے ہیں۔ قبل ازیں نوے سے زائد مردوخواتین اراکین شوریٰ نے حلف اٹھایا اور ایران کے حق میں اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف متفقہ قرارداد پاس کی۔ امیر جماعت مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں ایران کے حق میں پاس ہونے والی قرارداد کی ستائش کی اور کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کی اسرائیل کو ریاست تسلیم نہ کرنے کی بات بھی احسن اقدام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔