data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

شکارپور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے شکارپور سے معصوم بچے انس تھہیم کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مراد علی شاہ حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے معصوم بچے کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب تک فرض شناس اور وڈیروں بنگلوں پر حاضری نہ دینے والے پولیس افسران کو تعینات نہیں کیا جاتا اس وقت تک شکارپور سمیت سندھ میں امن کا قیام ممکن نہیں کیونکہ ان بنگلوں سے ہی جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی ہوتی ہے۔ شکارپور کا ایک پولیس افسر پہلے بھی ایسا انکشاف کر چکا ہے۔ صوبائی مشیر کے پولیس اسکواڈ کے ذریعے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا سندھ بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ سندھ میں عملاً ڈاکو راج ہیاور پیپلز پارٹی سے وابستہ مقامی ظالم وڈیرے اور سردار ان کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔ شکارپور شہر کے وسط میں معصوم بچوں کا اغوا اور ایک ہفتہ قبل ایک بچے روہت اوڈ کا بہیمانہ قتل پیپلز پارٹی کی حکومت پر سیاہ دھبہ ہے۔ اگر معصوم بچی پریا کماری اور فضیلہ سرکی بازیاب ہو جاتیں اور اغوا کاروں کو عبرتناک سبق دیا جاتا تو کسی کو انس تھہیم کو اغوا کرنے کی جرات نہ ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شکارپور کے شہری انس تھہیم کے اغوا اور بدامنی کے خلاف شہری شدید گرمی کے باوجود سراپا احتجاج ہیں مگرحکومت اور انتظامیہ کی غیرت نہیں جاگی۔ مقامی سردار اور منتخب نمائندے امن کی بحالی اور معصوم بچے کی بازیابی کے لیے ایک دوسرے پر الزامات لگا کر وقت ضائع کر رہے ہیں۔ دریں اثناء تیسرے روز بھی گھنٹہ گھر چوک پر جماعت اسلامی ضلع شکارپور کے امیر عبدالسمیع بھٹی کی قیادت میں وفد نے روہیت اوڈ کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے عوام دھرنے میں شرکت کرکے اظہار یکجہتی کیا بدامنی کے ذمہ دار مقامی ایم این اے، ایم پی اے اور پولیس ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور