خوراک کی تلاش میں نہتے 16 فلسطینی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ایران سے جنگ شروع ہونے کے بعد غزہ میں بدترین درندگی کا مظاہرہ ، صحت حکام
اسرائیلی فورسز کی براہ راست فائرنگ ،علاقے کی ناکہ بندی فوجی مہم نے قحط بڑھا دیا
صہیونی بمباری میں کم از کم 16 فلسطینیوں کی موت ہوگئی ہے جو غزہ کی پٹی پر شب کے وقت اور ہفتے کے شروع میں ہوئی، صحت کے حکام کے مطابق۔حماس کے ساتھ 20 ماہ کی جنگ جاری ہے جبکہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک نئے محاذ کو بھی کھول دیا ہے جس سے جوابی ڈرون اور میزائل حملے شروع ہوئے۔مزید 11 فلسطینیوں کو شب کے وقت ان مقامات کے قریب ہلاک کیا گیا جہاں اسرائیلی اور امریکی حمایت یافتہ انسانی گروپ نے خوراک کی تقسیم کے پوائنٹس قائم کیے ہیں، یہ واقعہ گزشتہ ماہ کے آغاز کے بعد سے تقریبا روزانہ کی فائرنگ کا تازہ واقعہ ہے۔فلسطینی گواہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے ہجوم پر فائرنگ کی جبکہ فوج نے کہا کہ اس نے صرف ان لوگوں کے قریب، جنہیں اس نے مشتبہ قرار دیا، متنبہ کرنے کے لیے گولیاں چلائیں۔یہ مقامات فوجی زون میں ہیں جہاں آزاد میڈیا کا جانا منع ہے۔غزہ ہیومنٹیرین فانڈیشن (GHF)، جو ان مقامات کا انتظام کرتی ہے، نے کہا کہ یہ ہفتہ کو بند تھے، لیکن گواہوں نے کہا کہ ہزاروں افراد نے خوراک کی تلاش میں جمع ہو گئے ہیں کیونکہ اسرائیل کی ناکہ بندی اور فوجی مہم نے علاقے کو قحط کی دہلیز پر پہنچا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔
بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔