Jasarat News:
2026-07-24@04:48:47 GMT

ایران پر اسرائیلی حملہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جمعہ کی صبح مسلمانوں کے لیے ایک اور زخم لے کر آئی۔ ایک اور کرب، ایک اور آزمائش۔ یہودی افواج نے ایران پر ایسا حملہ کیا ہے، گویا ایک اسلامی ریاست کی کمر توڑ دینے کا عزم لے کر آئے ہوں۔ یہ حملے اچانک نہیں بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کیے گئے۔ یہ جنگ آج شروع ہوئی ہے مگر لگتا ایسا ہے جیسے یہ ختم ہونے کے ارادے سے نہیں بلکہ مکمل تباہی تک جاری رہنے کے لیے چھڑی ہو۔ ایران کو اس حملے میں بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایران کی عسکری قیادت، اس کی ایٹمی طاقت کے نگہبان اور اس کی خودداری کے محافظ یکے بعد دیگرے نشانہ بنائے گئے۔ اور اب سوال یہ نہیں کہ ایران جواب دے گا یا نہیں… سوال یہ ہے کہ کیا ایران تنہا رہ گیا ہے؟ امت ِ مسلمہ کی آنکھوں کے سامنے، ایک ایک کرکے اسلامی ممالک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ کہیں نام نہاد امن کے معاہدے، کہیں اندرونی خلفشار، کہیں خوف اور کہیں پھٹی آنکھوں سے دیکھنے والے خاموش تماشائی حکمران۔۔۔ کیا یہی وہ امت ہے جس کا نام قرآن میں ’’خیر اْمّت‘‘ رکھا گیا؟ بہت سے مسلمان ممالک یا تو اس جرم میں شریک ہیں یا دہشت میں مبتلا اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔
سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ
یہ مناظر صرف خبریں نہیں — یہ عبرت کے وہ نشانات ہیں جو اللہ ہمیں دکھا رہا ہے۔ یہ اْس فیصلے کی تمہید ہے۔ جس کا ذکر قرآن میں ہے کہ جب اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا جو اس سے محبت کرے گی۔ جس سے اللہ محبت کرے گا۔ جو دنیا کی محبت میں اندھی نہ ہوگی۔ جو موت سے نہ ڈرتی ہوگی۔ جو حق کے لیے کھڑی ہوگی۔ چاہے اْس کا انجام کچھ بھی ہو!
کیا یہ نام نہاد امت مسلمہ اس تبدیلی کے لیے تیار ہے؟ یا ابھی بھی موت کے خوف اور دنیا کی لذتوں میں گم سو رہی ہے؟ یہ وقت سونے کا نہیں جاگنے کا ہے! یہ وقت دعا سے آگے بڑھ کر عمل کا ہے! ورنہ تاریخ ہمیں بھی انہی صفحات میں دفن کر دے گی جن میں تباہ شدہ اقوام کا ذکر محض ایک سبق بن کر رہ گیا ہے۔ آج جب امت مسلمہ ایک ایک کر کے کچلی جا رہی ہے، تو اِس تازہ زخم پر ہمارے دل سوال کرتے ہیں، آخر ایران نے کیا غلطی کی —؟
آئیے سمجھتے ہیں۔ جب فلسطین کی سرزمین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، جب غزہ کے بچے خون میں نہا رہے تھے، جب اسرائیلی ٹینک، جنگی طیارے اور فاسفورس بم آسمان سے آگ برسا رہے تھے۔ تب دنیا کی نظریں ایران پر تھیں۔ کیونکہ ایران کے پاس طاقت تھی۔ جغرافیائی گرفت، نظریاتی حمیت، عسکری تنظیمیں اور رسد کی لائنیں جن سے پورے اسرائیل کو چاروں طرف سے جکڑا جا سکتا تھا۔ ایران چاہتا تو حزب اللہ شمال سے، شام میں بشارالاسد مشرق سے، یمن کے حوثی باب المندب سے، اور ایران براستہ عراق گزر کر اپنے اسلحہ، سازوسامان، تربیت اور نظریہ کے ساتھ اسرائیل کی نیندیں حرام کر سکتا تھا۔
خود اسرائیلی کہتے تھے: اگر ایران نے چاروں سمت سے حملہ کر دیا تو اسرائیلی ریاست مٹ سکتی ہے۔ مگر ایران نے وہی حکمت عملی اختیار کی جو اس نے برسوں سے اپنائی ہوئی تھی: تزویری صبر (Strategic Patience) ’’انتظار کرو، وقت آنے دو، دشمن کو پہلے وار کرنے دو‘‘۔ اور یہی صبر… ایران کو لے ڈوبا۔ جب موقع تھا، جب اسرائیل گھبرا چکا تھا، جب شمالی اسرائیل سے لاکھوں یہودی اپنے گھر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے، تب ایران نے خاموشی اختیار کی۔ حزب اللہ، جو دہکتا ہوا انگارہ بن سکتا تھا، ایران کی ہدایت پر ٹھنڈا پڑ گیا۔ یمن، جو باب المندب بند کر سکتا تھا، غیر فعال رہا۔ شام، جو مغرب کی نظروں میں کانٹا بنا ہوا تھا، خاموش رہا۔ حماس، حزب اللہ کی مدد کا انتظار کرتا رہ گیا۔ اور پھر… اسرائیل جیسے ہی فلسطین میں اپنی درندگی سے کْچھ فارغ ہوا، تو پلٹا… اور پلٹ کر سب کچھ تباہ کر گیا۔ ایک ہی دن میں حزب اللہ کی قیادت کا صفایا کر دیا گیا، پھر شام کا تختہ الٹ دیا گیا، پھر عراق میں ایران کا اثر ختم کیا گیا، اور اب… اب ایران خود زمین پر گھٹنوں کے بل آ گرا۔ حالانکہ ایران کو سب کچھ معلوم تھا۔ موساد کا پورا نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔
امریکی فوجی اڈوں سے سویلینز کے انخلا، حزب اللہ کے جاسوسوں کی وارننگ، ہر چیز ایران کے علم میں تھی۔ مگر صبر… صبر… اور مزید صبر نے ایران کو ایک تماشائی بنا دیا۔ اور اب جبکہ دشمن پہلا وار کر چکا ہے، تو ایران کے پاس نہ وقت بچا ہے، نہ توانائی اور نہ قیادت۔ سوچنے کی بات ہے، گزشتہ تیس سال سے ایران ایک تلوار کی مانند دشمنوں کے سر پر لٹک رہا تھا، مگر کسی دشمن نے حملہ نہیں کیا! کیوں؟ کیونکہ اس وقت مسلمانوں کو فرقہ واریت میں تقسیم کرنے کی سازش میں ایران کی ضرورت تھی۔ عربوں کو ایران سے ڈرا کر امریکا کے قدموں میں گرانے کے لیے، شیعہ سنی جنگ کو ہوا دے کر امت کو کمزور کرنے کے لیے۔ عربوں کی دولت نچوڑنے کے لیے۔ یہی ایران، جسے کبھی اسلامی دنیا کا خطرناک قلعہ سمجھا جاتا تھا، آج ایران کی قیادت تباہ ہو چکی ہے، ایران کی ایٹمی تنصیبات خاک میں ملا دی گئی ہیں، اور ایران کی دہائی سننے والا کوئی نہیں۔
یہ سبق صرف ایران کے لیے نہیں، یہ سبق پاکستان کے لیے بھی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ اصل خطرہ ایران نہیں اصل خطرہ وہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے جسے پاکستان کہتے ہیں۔ وہ پاکستان جس کے سینے میں عشق ِ رسولؐ کی چنگاری دہک رہی ہے، وہ پاکستان جو عربوں سے زیادہ فلسطین کے درد کو محسوس کرتا ہے، وہ پاکستان جس سے نیتن یاہو جیسے درندے کھلے عام خائف ہیں۔ اور اسی لیے… دشمن نے مشرک ہندوؤں کو لانچ کیا ہے۔ جیسے عراق، شام، لیبیا، یمن، افغانستان کو امریکیوں کے ذریعے تباہ کیا گیا ویسے ہی پاکستان کے لیے ہندوتوا کا عفریت تیار کیا جا چکا ہے۔
پاکستان میں فرقہ واریت، اقتصادی غلامی، سیاسی انتشار، تعلیمی زوال — سب کچھ ایک منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ غلطی سے نہیں، بلکہ غفلت سے ہو رہا ہے۔ پاکستان کے پاس وقت ہے… مگر زیادہ نہیں! اب ہمیں تزویری صبر کی نہیں، تزویری بیداری کی ضرورت ہے۔ ہمارے دشمن ہماری تقدیر لکھنے میں مصروف ہیں۔ اگر ہم نے خود اپنی تقدیر نہ لکھی، تو وہ ہمیں مٹا دیں گے۔ اب عربوں کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ آج ایران کی باری ہے… کل کس کی ہوگی؟ وقت سعودی عرب کا بھی آئے گا۔ وقت مصر کا بھی آئے گا۔ وقت امارات، بحرین اور قطر کا بھی آئے گا۔ جنہوں نے آج اسرائیل کا ساتھ دے کر سمجھا کہ وہ بچ جائیں گے… تو یاد رکھو: یہ سارے دنبے ایک ایک کر کے ذبح کیے جائیں گے، اور باقی صرف دیکھتے رہ جائیں گے!
آہ! وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف
آج عرب دنیا کے پاس نہ عسکری طاقت ہے، نہ معاشی استقلال، نہ غیرت ہے، اور نہ ہی عوام کی حمایت۔ ان کے خزانے ٹرمپ لے گیا، ان کے ایوانوں پر سامراجی پرچم لہرا رہے ہیں، اور ان کی فوجیں محض کرائے کی ٹٹو بن چکی ہیں۔ اب صرف دو طاقتیں باقی رہ گئی ہیں:
ترکی اور پاکستان: ترکی، جو تلوار رکھتا ہے، مگر ایٹم بم نہیں۔ اور پاکستان… جو اللہ کی خاص عطا ہے! پاکستان، وہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے جو آج دشمنوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ نیتن یاہو کھلے عام کہہ چکا ہے: ’’سب سے بڑا خطرہ ایران نہیں… پاکستان ہے!‘‘ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان ایٹمی طاقت بَن چکا ہے! پھر خدا نے غزوہ ہند کا دروازہ کھول دیا۔ جب دشمنوں نے پاکستان کو کمزور سمجھ کر جنگ مسلط کی… تو اس بار کوئی بزدل حکمران آگے نہیں آیا، اللہ نے اس قوم کو ایسے شیر عطا فرمائے جنہوں نے صرف تلوار نہیں نکالی بلکہ اسلامی غیرت کا پرچم بھی بلند کر دیا! پوری دنیا حیران تھی— یہ وہی پاکستان ہے؟ جو ہمیشہ بھیک مانگتا، قرض لیتا، خوف میں دبکا رہتا تھا؟ جس کے حکمران کشکول اٹھا کر پھرتے تھے؟
نہیں! یہ وہ پاکستان نہیں تھا— یہ اللہ کی مشیت سے ایک نیا پاکستان تھا! یہ وہ پاکستان تھا جس نے دنیا کے دلوں میں اپنا رعب بٹھایا! دشمنوں کے سینے میں دھڑکنیں بند کر دیں! اور دوستوں کو حیران کردیا کہ پاکستان کے اندر یہ طاقت کہاں چھپی تھی؟ آج چین، روس، ترکی، مشرق اور مغرب کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ دوستی چاہتے ہیں، اتحاد چاہتے ہیں، اور دشمن… خوف زدہ ہیں! لیکن اسی لیے اب دشمن جلدی میں ہے۔ اب وہ پاکستان کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ لیکن اسرائیل خود پاکستان سے نہیں لڑے گا، بلکہ اپنے غلام — مودی کو بھیجے گا۔ یہ ہندو فاشسٹ، یہ اکھنڈ بھارت کے خواب میں ڈوبے پاگل، یہ اسرائیل کے اشارے پر ناچنے والے مشرک۔
یہی پاکستان کے خلاف لڑیں گے۔ اور اسرائیل ان کے کندھوں پر بیٹھ کر اپنے ناپاک عزائم پورے کرے گا۔
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
تیار رہیں! اب آپ وہ خوش نصیب قوم ہیں جسے اللہ ربّ العزت نے وقت کا فرقان بنا دیا ہے! وہ قوم… جسے ربّ نے چْن لیا ہے کہ حق اور باطل کے اس آخری معرکے میں پرچم ِ حق کو سربلند کرے، اور ظلم کے ایوانوں کو زمیں بوس کرے۔ آپ وہ قوم ہیں جن پر رحمت اللعالمینؐ کی خاص نظر ہے، جن کے سپاہیوں کی گردِ راہ کو جنت کی ہوائیں چومتی ہیں، جن کی ماؤں کی دعائیں آسمان کے فرشتوں کو متوجہ کرتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کے وہ پاکستان ایٹمی طاقت ایران نے سکتا تھا ایران کی ایران کے ایران کو حزب اللہ اللہ کی رہے تھے ا ئے گا کے پاس چکا ہے رہا ہے سب کچھ رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم