اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 جون2025ء) وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایسا پائیدار و جدید آئی سی ٹی نظام تشکیل دیا جائے گا جس سے پاکستان خطے میں آئی ٹی شعبے کے حوالے سے مرکز بن کر ابھرے گا،پاکستان میں آئی ٹی شعبے کے جدید تربیتی پروگرامز سے مقامی سطح پر تبدیلی کیلئے نوجوانوں کو تیار کیا جائے،آئی ٹی شعبے کی ایسی تربیت و ہنر فراہم کئے جائیں، جس سے نوجوانوں کا روزگار یقینی ہو جبکہ وزیر اعظم کو بتایا گیا ہے کہ رواں موسم گرما کی تعطیلات میں 1 لاکھ 46 ہزار بچوں کو وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہواوے کے اشتراک سے آئی ٹی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔

پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نوجوانوں کو آئی ٹی شعبے کی تربیت اور پاکستان میں تربیتی پروگرامز کے ایکوسسٹم کی تشکیل و اجراء کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

(جاری ہے)

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نوجوانوں کو آئی ٹی شعبے کی تربیت اور پاکستان میں تربیتی پروگرامز کے ایکوسسٹم کو بہتر بنانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں آئی ٹی شعبے کی جدید تربیت کیلئے نظام کی تشکیل و اجراء پر تیزی سے کام جاری ہے جس کیلئے کنسلٹنسی فرمز کی خدمات کے حصول کے حوالے سے ٹرمز آف ریفرنسز حتمی مراحل میں ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ہواوے کے تعاون سے اب تک 20 ہزار طلباء و طالبات کو آئی ٹی شعبے کی جدید تربیت فراہم کی جا چکی اور حال ہی میں گزشتہ برس تربیت یافتہ پاکستانی طلباء و طالبات نے نہ صرف پورے چین بلکہ عالمی سطح پر آئی ٹی کے تین شعبہ جات میں پہلی تین پوزیشن جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا ہے.

ان مقابلوں میں دنیا بھر سے 2 لاکھ امیدوار شامل تھے۔

وزیراعظم نے مقابلے میں کامیاب ہو کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کرنے والے طلباء و طالبات کی پزیرائی کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ہواوے کے اشتراک سے مزید 80 ہزار طلباء و طالبات کو آئی ٹی تربیت کی فراہمی کے ہدف کے حصول کیلئے اقدامات جاری ہیں جن میں نہ صرف بڑے شہروں بلکہ بلوچستان سمیت دور دراز علاقوں بشمول تربت میں بھی آن لائن کلاسز فراہم جائیں گی۔

وزیرِ اعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹرینرز کو جدید ٹیکنالوجی اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق کورسز کی تربیت کیلئے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں 50 ہزار ٹرینرز کی تربیت کا ہدف رکھا گیا ہے۔مزید بتایا گیا کہ تربیتی پروگرام کی بیچلرز پروگرامز میں شمولیت اور مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کے اجراء سے 3 لاکھ طلباء و طالبات کو آئی ٹی شعبے کی تربیت فراہم کرنے کا ہدف پورا کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایاگیا کہ رواں موسم گرما کی تعطیلات میں 1 لاکھ 46 ہزار بچوں کو وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہواوے کے اشتراک سے آئی ٹی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت جلد 2 ہزار طلباء و طالبات کو آئی ٹی کے جدید کورسز کی تربیت دے کر روزگار کے قابل بنایا جائے گا۔وزیرِ اعظم نے تمام اقدامات کی مدت کا تعین کرکے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی شعبے کے جدید تربیتی پروگرامز سے مقامی سطح پر تبدیلی کیلئے نوجوانوں کو تیار کیا جائے،آئی ٹی شعبے کی ایسی تربیت و ہنر فراہم کئے جائیں، جس سے نوجوانوں کا روزگار یقینی ہو،پاکستان میں ایسا پائیدار و جدید آئی سی ٹی نظام تشکیل دیا جائے گا جس سے پاکستان خطے میں آئی ٹی شعبے کے حوالے سے مرکزی حب بن کر ابھرے گا،اس حوالے سے مقامی کمپنیوں کو آئی ٹی شعبے کی با اختیار افرادی قوت کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی جس سے وہ بین الاقوامی تقاضوں کو پورا کر سکیں، اور ملک میں زرمبادلہ لا سکیں گی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ تربیتی نظام کیلئے کنسلٹینسی کے حوالے سے واضح ٹرمز آف ریفرینسز ٹی او آرز بنائے جائیں۔وزیرِاعظم نے کہا کہ نظام کی تشکیل اور اجراء کیلئے مدت کا تعین کیا جائے، اور جلد اس کی تکمیل یقینی بنائی جائے،تربیتی پروگرامز مثبت اور تعمیری ہوں جو نوجوانوں کو بین الاقوامی تناظر میں کار آمد فرد بنائیں،پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہماری با صلاحیت نوجوان افرادی قوت ہے۔وزیرِاعظم نے انفارمیشن ہدایت کی کہ ٹیکنالوجی کی تربیت کو سکولوں و کالجوں اور یونیورسٹیوں میں فراہم کرنے کیلئے وزارت وفاقی تعلیم، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور نیووٹیک مل کر وزارت آئی ٹی کے ساتھ کام کریں،موجودہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سمر کیمپس میں آئی ٹی کی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔\932

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اعظم محمد شہباز شریف میں آئی ٹی شعبے کے کو آئی ٹی شعبے کی تربیتی پروگرامز بتایا گیا کہ نوجوانوں کو پاکستان میں تربیت فراہم کے حوالے سے جدید تربیت کی تربیت اجلاس کو ہواوے کے کو بتایا کیا جائے جائے گا

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری