شرح سود میں تبدیلی کے لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
کراچی:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج کراچی میں منعقد کیا جائے گا، جس میں ملک کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کیا جائے گا۔
ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق اجلاس کے بعد ایک تفصیلی اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں مانیٹری پالیسی سے متعلق تمام نکات اور فیصلوں کی وضاحت کی جائے گی۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس معمول کے مطابق منعقد ہو رہا ہے، جس میں موجودہ مالیاتی اور اقتصادی اشاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لیے پالیسی ریٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 5 مئی کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد پر مقرر کیا تھا، جسے کاروباری حلقوں اور اقتصادی ماہرین نے سراہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں ممکنہ کمی اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے آج ہونے والے اجلاس میں بھی شرح سود میں مزید کمی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مانیٹری پالیسی کیا جائے گا کے لیے
پڑھیں:
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف کی تجاویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
اس کے ساتھ ہی جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی گھٹا کر 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔
حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا خاتمہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔