شرح سود میں تبدیلی کے لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
کراچی:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج کراچی میں منعقد کیا جائے گا، جس میں ملک کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کیا جائے گا۔
ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق اجلاس کے بعد ایک تفصیلی اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں مانیٹری پالیسی سے متعلق تمام نکات اور فیصلوں کی وضاحت کی جائے گی۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس معمول کے مطابق منعقد ہو رہا ہے، جس میں موجودہ مالیاتی اور اقتصادی اشاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کے لیے پالیسی ریٹ پر فیصلہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 5 مئی کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد پر مقرر کیا تھا، جسے کاروباری حلقوں اور اقتصادی ماہرین نے سراہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں ممکنہ کمی اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے آج ہونے والے اجلاس میں بھی شرح سود میں مزید کمی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مانیٹری پالیسی کیا جائے گا کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔