ایران اسرائیل جنگ، خلیج تعاون کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
خلیج تعاون کونسل کا ہنگامی اجلاس آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوگا۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور اس کی وجہ سے ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
خیلج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل محمد جاسم البدودی نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی جارحیت عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، عالمی برادری کو کشیدگی روکنے کیلیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
سیکرٹری جنرل خلیج تعاون کونسل نے کہا کہ فریقین تنازعے کو مزید ہوا نہ دیں ورنہ اس سے معاملات مزید خراب ہوں گے، ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث خطے کا امن اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تعاون کونسل
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔