ایران اسرائیل جنگ، خلیج تعاون کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
خلیج تعاون کونسل کا ہنگامی اجلاس آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوگا۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور اس کی وجہ سے ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
خیلج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل محمد جاسم البدودی نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی جارحیت عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، عالمی برادری کو کشیدگی روکنے کیلیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
سیکرٹری جنرل خلیج تعاون کونسل نے کہا کہ فریقین تنازعے کو مزید ہوا نہ دیں ورنہ اس سے معاملات مزید خراب ہوں گے، ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث خطے کا امن اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تعاون کونسل
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔