ایران اور اسرائیل کی جنگ مسلکی نہیں بلکہ کفر و اسلام کی جنگ ہے، ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ جو لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ایران کے خلاف باتیں کرتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں کیونکہ یہود و نصاری عالم اسلام کے خلاف اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے جنرل سیکریٹری محمد ایوب مغل، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مولانا عبدالرحیم گجر، شیعہ علما کونسل جنوبی پنجاب کے ترجمان بشارت عباس قریشی، قومی تاجر اتحاد کے مرکزی صدر سلطان محمود ملک نے دیگر رہنماوں علامہ محمد طارق ہاشمی، سلیم عباس صدیقی، علامہ خالد فاروقی، مفتی ممتاز احمد قاسمی، مفتی زبیر احمد، نزاکت حسین، سید محمد اصف شاہ، عزیز الرحمن جالندھری، محمد اشفاق سعیدی، ملک غلام سرور حیدر، حافظ محمد رستم، محمد بوٹا کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور یورپ بلاتفریق سنی و شیعہ تمام مسلمانوں پر حملہ اور ہیں، اسرائیل دہشت گرد ریاست ہے، ایران نے اپنا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا کر امریکہ اور یورپی ممالک کے سیاہ چہروں کو بے نقاب کر دیا ہے، ایران نے جس ہمت اور جواں مردی سے اسرائیل کو دھول چٹائی ہے اس پر پوری پاکستانی عوام ایران کی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرتی ہے، پوری پاکستانی قوم ایران کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ایران اس وقت اہل اسلام کی نمائندگی کر رہا ہے اور یہ مسلکی جنگ نہیں بلکہ کفر و اسلام کی جنگ ہے، انجمن غلامان امریکہ ٹوٹ رہی ہے، اسرائیل اور یورپ کے بڑھتے ہوئے ظلم و بربریت کو روکنا ہوگا جو امت مسلمہ کے امن کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ جو لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ایران کے خلاف باتیں کرتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں کیونکہ یہود و نصاری عالم اسلام کے خلاف اکٹھے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کی حماقت دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، ہم اس موقع پر ایران کے ساتھ ہیں اور اسرائیل امریکہ اور یورپ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اسرائیل کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرنا اور حکومت پاکستان کا اسرائیلی حملوں کی مذمت اور ایران کے ساتھ ہر محاذ پر ساتھ دینے کا اعلان احسن اقدام ہے، یہ پاکستانی عوام کے جذبات کی بہترین نمائندگی ہے اور اس موقع پر سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کا بھی اسرائیل کی مذمت کرنا وقت کی آواز ہے، پاکستانی عوام فوج کے ساتھ تھی اور فوج کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ چائنہ اور روس سمیت دیگر ممالک اس جنگ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کے لیے ایٹم بم بنانے کا پورا حق حاصل ہے، اگر اسرائیل امریکہ اور یورپ ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو ایران اپنی حفاظت کے لیے ایٹم بم کیوں نہیں بنا سکتا، موجودہ حالات میں ترقی کرنے کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے، اسرائیل اور امریکہ کا اس بنا پر ایران پر حملہ کرنا ظلم و بربریت ہے اور ایران کو اپنے دفاع سے باز رکھنے کے مترادف ہیں، اسرائیل کا ایران پر حملہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے اور اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کی خاموشی انسانیت کے قتل کی بھیانک سازش ہے اور یہ خاموشی پوری دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایران کے چھ ایٹمی سائنسدان اور جرنیلوں سمیت دیگر شہدا کے غم میں پوری پاکستانی قوم ایرانی عوام کے غم میں برابر کی شریک ہے، اگر آج مسلم امہ صیہونی قوتوں کے خلاف متحد نہ ہوئی تو کل کسی اور کی باری آئے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ اور یورپ ایران کے ساتھ کے خلاف ہے اور کی جنگ کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔