کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ بلوچستان واحد صوبہ ہے جو اپوزیشن کو بھی آن بورڈ لیکر بجٹ بنا رہا ہے اور آنیوالے بجٹ میں روزگار کے مواقعوں اور ترقی پر مبنی منصوبے لائے جائینگے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنی ایک سالہ مدت کے دوران بجٹ کا 90 فیصد فنڈز استعمال کیا ہے اور امید ہے کہ بقیہ 10 فیصد فنڈز بھی بجٹ سے قبل ریلیز کر دیئے جائیں گے۔ حکومت نے عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے صوبے میں پی ایس ڈی پی کے توسط سے ترقیاتی کاموں میں موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ جس کا مقصد صوبے میں تعلیم، صحت، پی ایچ ای، ماہی گیری، زراعت، توانائی اور دیگر شعبوں میں مختص کئے گئے فنڈز بہتر طور پر خرچ کئے ہیں تاکہ ان منصوبوں کو مکمل کرکے ان کے ثمرات عوام تک منتقل کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں برسر اقتدار رہنے والی حکومتوں نے 50 سے 60 فیصد فنڈز استعمال کئے تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ ترجمان شاہد رند نے کہا کہ حکومتی کارکردگی کو پہلے بجٹ سے جانچا جاتا ہے۔ رواں بجٹ حکومت کا پہلا بجٹ ہے۔ ماضی میں 62 فیصد سے زائد ترقیاتی فنڈز استعمال نہیں ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے ترقیاتی بجٹ مکمل استعمال کرنے کا وعدہ کیا تھا اور رواں بجٹ میں پی ایس ڈی کے ذریعے مختص 2 سو ارب روپے کے 90 فیصد فنڈز استعمال کئے گئے ہیں۔ رواں بجٹ میں زرعی شعبے کیلئے بلوچستان کے بجٹ میں 20 فیصد مختص کئے پی ایس ڈی پی میں سڑکوں کی ترقیاتی کام کے لئے 18 فیصد اور تعلیم کے لئے 10 فیصد مختص کئے۔ امید ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک 100 فیصد فنڈز کا استعمال ہوگا۔ ترجمان نے بتایا کہ رواں ہفتے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی تھی اور حکومت نے عوام کی سہولت کے لئے کچلاک سے سریاب تک پیپلز ریل سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس سے مسافروں کو سفری سہولیات میسر ہوں گی۔ اس ٹرین کا مقصد لوگوں کو کم وقت میں ان کی منزل مقصود تک پہنچانا ہے اور اس کے لئے 5 ریلوے اسٹیشن کو بحال کرنے کے علاوہ 2 نئے ریلوے اسٹیشن بھی قائم کئے جارہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلوچستان کی بہتری اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اپوزیشن کی تجاویز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان واحد صوبہ ہے جو اپوزیشن کو بھی آن بورڈ لے کر بجٹ بنا رہا ہے اور آنے والے بجٹ میں روزگار کے مواقعوں اور ترقی پر مبنی منصوبے لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ اور صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں نے اپنے بجٹ پیش کر دیئے ہیں۔ بلوچستان اور پنجاب کا بجٹ چند روز میں پیش ہوگا، جس کے لئے حکومت تیاری کر رہی ہے۔ ترجمان بلوچستان حکومت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے غیر معمولی فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اس لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید اختیارات دیئے گئے ہیں۔ اس قانون سازی کے موقع پر حکومت اور اپوزیشن جماعتیں دونوں ایوان میں موجود تھیں۔ کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ انسداد دہشتگردی کے قانون میں ترامیم لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے کی گئی، کیونکہ یہ مسئلہ کتنے عرصے سے چلا آرہا ہے۔

شاہد رند نے کہا کہ صوبائی اسمبلی نے قانون سازی کی ہے اور قانون سازی کا اختیار ایوان کو حاصل ہے۔ جو جماعتیں اس قانون پر تنقید کر رہی ہے، وہ بھی ایوان میں رہی ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل کیلئے اپنے دور اقتدار میں کیوں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی تاکہ یہ مسئلہ حل ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ سازی کا عمل خوش اسلوبی سے جاری ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں، لیکن حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات کی سنگینی کا ادراک رکھتے ہوئے سکیورٹی اقدامات کا از سرنو جائزہ لیکر اس میں بہتری کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی بازیابی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ علاقوں کی انتظامیہ ان کی بحفاظت بازیابی کیلئے کوششیں کر رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ فنڈز استعمال فیصد فنڈز حکومت نے ہے اور ا ا رہا ہے نے والے کے لئے

پڑھیں:

آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔

دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب