امریکہ کیجانب سے روس کو انتباہ جنگ کیجانب ایک قدم ہے، ماسکو
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو کیخلاف جاری ہونیوالی واشنگٹن کی وارننگ، دونوں ممالک کے درمیان جنگ کیطرف ایک قدم ہے! اسلام ٹائمز۔ روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری مدودوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کے خلاف جاری ہونے والی دھمکیوں پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپنی ایک تقریر میں اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دیمتری مدودوف نے کہا کہ ہم نہ اسرائیل ہیں اور نہ ہی ایران! روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی حتمی انتباہ کہ جس کا واشنگٹن، ماسکو کے خلاف اعلان کرتا ہے؛ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی طرف ایک حتمی قدم ہے!
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اپنے روسی ہم منصب کے خلاف کھل کر "عدم اطمینان" کا اظہار کیا تھا جبکہ آج سکاٹ لینڈ میں برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں ماسکو کے لئے 10 سے 12 دن کی نئی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، جو آج سے شروع ہو گی! ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں "صدر پیوٹن سے مایوس ہوں.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔