روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو کیخلاف جاری ہونیوالی واشنگٹن کی وارننگ، دونوں ممالک کے درمیان جنگ کیطرف ایک قدم ہے! اسلام ٹائمز۔ روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری مدودوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کے خلاف جاری ہونے والی دھمکیوں پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپنی ایک تقریر میں اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دیمتری مدودوف نے کہا کہ ہم نہ اسرائیل ہیں اور نہ ہی ایران! روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی حتمی انتباہ کہ جس کا واشنگٹن، ماسکو کے خلاف اعلان کرتا ہے؛ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی طرف ایک حتمی قدم ہے!

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اپنے روسی ہم منصب کے خلاف کھل کر "عدم اطمینان" کا اظہار کیا تھا جبکہ آج سکاٹ لینڈ میں برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں ماسکو کے لئے 10 سے 12 دن کی نئی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، جو آج سے شروع ہو گی! ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں "صدر پیوٹن سے مایوس ہوں.

.. میں اس 50 دن کی ڈیڈ لائن کو کم کرنے جا رہا ہوں جو میں نے انہیں دیی تھی، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ مجھے پہلے ہی اس سوال کا جواب معلوم ہے کہ کیا ہونے والا ہے!"

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری