امریکہ کیجانب سے روس کو انتباہ جنگ کیجانب ایک قدم ہے، ماسکو
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو کیخلاف جاری ہونیوالی واشنگٹن کی وارننگ، دونوں ممالک کے درمیان جنگ کیطرف ایک قدم ہے! اسلام ٹائمز۔ روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری مدودوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کے خلاف جاری ہونے والی دھمکیوں پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپنی ایک تقریر میں اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دیمتری مدودوف نے کہا کہ ہم نہ اسرائیل ہیں اور نہ ہی ایران! روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی حتمی انتباہ کہ جس کا واشنگٹن، ماسکو کے خلاف اعلان کرتا ہے؛ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی طرف ایک حتمی قدم ہے!
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اپنے روسی ہم منصب کے خلاف کھل کر "عدم اطمینان" کا اظہار کیا تھا جبکہ آج سکاٹ لینڈ میں برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں ماسکو کے لئے 10 سے 12 دن کی نئی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، جو آج سے شروع ہو گی! ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں "صدر پیوٹن سے مایوس ہوں.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔